Preloader

اسلام آباد (28 جولائی 2026): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور ممبران کی تنخواہیں زیرِ بحث آ گئیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا رانا محمود الحسن کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا جس میں نیپرا سے تمام آئی پی پیز، ان کے مالکان کی تفصیلات، بجلی گھروں کی استعداد اور پیداوار کے اعداد و شمار طلب کر لیے گئے۔

اجلاس میں نیپرا حکام نے بتایا کہ آئی پی پیز کو گزشتہ سال 1149 ارب کے انرجی چارجز اور 1800 ارب کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے، رواں سال اپریل تک 1023 ارب کے انرجی اور 1430 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز ادا کیے گئے، ساڑھے 5 سال کے دوران آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز مد میں 7275 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کو جولائی کی تنخواہ اور پنشن کب ملے گی؟

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین نیپرا اور ممبران کی تنخواہوں میں ازخود اضافہ کے معاملے پر بحث ہوئی، سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے ازخود اضافے کو غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آڈیٹر جنرل کو نیپرا کے خصوصی آڈٹ کیلیے خط لکھ دیا ہے۔

اجلاس میں سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ نیپرا لوڈشیڈنگ، گردشی قرضوں میں کمی اور سستی بجلی کی فراہمی کی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔

ایسا کوئی بھی پاور پلانٹ نہیں ہے جو بجلی بنائے بغیر پیسے لے رہا ہو

سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ نیپرا کی ناقص کارکردگی کے باعث بجلی کا نظام تباہ حال ہے، نیپرا کی بد انتظامی کے باعث ہر سال 18 سو ارب روپے آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز ادا کیے جا رہے ہیں۔

اس پر نیپرا حکام نے بتایا کہ ایسا کوئی بھی پاور پلانٹ نہیں ہے جو بجلی بنائے بغیر پیسے لے رہا ہو۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ ڈی جی نیپرا کی بنیادی تنخواہ اور الاونس ملا کر ماہانہ 20 لاکھ روپے بنتے ہیں۔ اس پر نیپرا حکام نے بتایا کہ چیئرمین نیپرا کی الاونسز سمیت تنخواہ 32 لاکھ روپے ہے، سابق قانون کے مطابق یہ تنخواہ و مراعات 11 لاکھ روپے تھے۔

سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے کہا کہ تنخواہوں میں اضافے کی منظوری کابینہ سے لینی چاہیے تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *