لندن : برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے بچوں کی تصاویر آن لائن شیئر کرنے سے والدین کو سختی سے خبردار کیا ہے، بصورت دیگر پریشانی آپ کا مقدر بن سکتی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جرائم پیشہ افراد مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق جعلی تصاویر اور ویڈیوز بنا رہے ہیں، زیر نظر مضمون میں جانیے کہ سائبر کرائم سے بچوں کو کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا کے حالیہ دور میں والدین اکثر معصومیت میں اپنے بچوں کی یادگاریں شیئر کرتے ہیں، جسے ماہرین اصطلاح میں ’شرینٹنگ ‘ کہتے ہیں، لیکن اس کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔
ماہرین نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے احتیاط سے کام لیں، کیونکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے ان تصاویر کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔
برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے کہا ہے کہ روزمرہ زندگی میں لی گئی بچوں کی عام تصاویر بھی اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیل کرکے جعلی اور نازیبا مواد میں استعمال کی جا سکتی ہیں، جس سے بچوں کی پرائیویسی اور سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کے مطابق 2025 کے دوران اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی بچوں سے متعلق جعلی جنسی نوعیت کی تقریباً 3 ہزار 500 تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں، جبکہ 2024 میں ایسی رپورٹ ہونے والی مثالوں کی تعداد صرف 13 تھی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس نوعیت کے جرائم میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جرائم پیشہ عناصر سوشل میڈیا پر موجود بچوں کی تصاویر حاصل کرکے انہیں اے آئی کی مدد سے حقیقت سے قریب تر جعلی تصاویر یا ویڈیوز میں تبدیل کرسکتے ہیں، جس کے باعث والدین کو اپنی آن لائن سرگرمیوں میں زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سوشل میڈیا پروفائلز کو پرائیویٹ رکھیں اور تصاویر یا ویڈیوز صرف محدود اور قابلِ اعتماد افراد کے ساتھ شیئر کریں۔ اس مقصد کے لیے “کلوز فرینڈز” یا اسی نوعیت کی پرائیویسی سیٹنگز کا استعمال مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے بھی اس حوالے سے گفتگو کریں اور ان کی رائے معلوم کریں کہ آیا وہ اپنی تصاویر یا ویڈیوز کے آن لائن موجود ہونے پر رضامند ہیں یا نہیں۔
