اسلام آباد (19 ستمبر 2026): وزیر اعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے لانگ مارچ کے معاملے پر حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات جاری رہنے کا اشارہ دے دیا۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’پروگرام سوال یہ ہے‘ میں حذیفہ رحمان نے کہا کہ حکومت آخری وقت تک مذاکرات کی کوشش کرتی ہے، محسن نقوی وزیر داخلہ ہیں اور معاملات داخلی امور سے متعلق ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ سے قبل راجہ ناصر عباس کی اہم حکومتی وزیر سے ملاقات
حذیفہ رحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبات سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، محسن نقوی مذاکرات سے متعلق بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کے جائز مطالبات حکومت کو ماننے بھی چاہیے کیونکہ بطور سیاسی جماعت ہماری ذمہ داری ہے کہ جائز مطالبات مانیں۔
معلومات ہیں پی ٹی آئی بھی چاہتی ہے انہیں کوئی سیف ایگزٹ مل جائے
وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ جائز مطالبات اگر مارچ سے پہلے مانے جا سکتے ہیں تو لانگ مار چکی کال واپس لے لیں، پی ٹی آئی سے جائز مطالبات سے متعلق مذاکرات جاری ہیں، ان کی کال برقرار رہی تو پاکستان کی معیشت کو نقصان ہوگا، ان کو قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کال واپس لیں، معلومات ہیں پی ٹی آئی بھی چاہتی ہے انہیں کوئی سیف ایگزٹ مل جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میڈیا کے سامنے کچھ اور پس پردہ کچھ اور مطالبات رکھتی ہے۔
عمران خان کی صحت سے متعلق جائز مطالبات کو مانا جا سکتا ہے
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق جائز مطالبات کو مانا جا سکتا ہے، اگر پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ اس کے بانی کی صحت کو مسئلہ ہے تو ڈاکٹرز کا بورڈ بنا سکتے ہیں، ان کو پمز اسپتال میں مسئلہ ہے تو اور اچھے سرکاری اسپتال میں علاج کروا سکتے ہیں۔
حذیفہ رحمان نے کہا کہ کے پی میں گورننس اور بجٹ سے متعلق جائز مطالبات سامنے رکھتے ہیں تو مانیں گے۔
