Preloader

سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ میں درپیش مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ اسے کوئی ایک فرد حل نہیں کرسکتا۔

سابق کپتان وسیم اکرم نے قومی ٹیم کی زوال پذیری کی بڑی وجوہات میں بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کی خامیوں کے ساتھ ساتھ فرسٹ کلاس ڈومیسٹک ڈھانچے میں عدم استحکام کی نشاندہی کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ مشکلات کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا گروہ پر نہیں بلکہ متعدد اسٹیک ہولڈرز پر عائد ہوتی ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ پچھلے چند سالوں سے فرسٹ کلاس کا ڈھانچہ تیزی سے بدلا ہے اور وہاں کوئی تسلسل نہیں ہے لیکن پاکستان میں ہماری ایک کہاوت ہے کہ ‘تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے’۔

یہ پڑھیں: برمنگھم ٹیسٹ میں پاکستان کی ٹیم انگلینڈ کے خلاف 133 رنز پر ڈھیر

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ انہیں سیریز شروع ہونے سے پہلے ہی انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی مشکلات کا اندازہ تھا۔ سابق فاسٹ بولر پاکستان کی کارکردگی، خاص طور پر تینوں شعبوں میں توازن کے فقدان پر بھی سخت تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری بیٹنگ جدوجہد کر رہی ہے، ہماری بولنگ اوسط درجے سے نیچے ہے اور فیلڈنگ اس سے بھی بدتر ہے۔

واضح رہے کہ ایجبسٹن ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پاکستان ٹیم 133 رنز پر ڈھیر ہوگئی جبکہ سیریز میں میزبان ٹیم کو 0-2 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *