پاور ڈویژن نے نیپرا سے”پروزیومر ریگولیشنز2026″کےچند پہلوؤں پر فوری نظرِثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
پاور ڈویژن کی طرف سے جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پہلے بھی اس فیصلے کے مضر اثرات پر نیپرا کو آگاہ کیا تھا، پاورڈویژن نےاس کو پرانے ریگولیشنز کے مطابق کرنے کی درخواست کی تھی، تبدیلیوں سےچھوٹے پیمانے پرصارفین میں قابلِ تجدید توانائی کی رفتار سست ہوسکتی ہے۔
اعلامیے کے مطابق 2015کےضوابط کے تحت 25کلوواٹ یا کم کیلیے نیپرا سے لائسنس کی ضرورت نہیں تھی، اس زمرےکی درخواستیں تقسیم کارکمپنیوں کے ذریعے بغیر فیس کے پروسیس کی جاتی تھیں۔
پاور ڈویژن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ “پروزیومر ریگولیشنز”کےتحت چھوٹےفیس پلانٹس کیلیے بھی منظوری کا اختیارنیپرا کودےدیا گیا، نئے قواعد کے تحت چھوٹے پلانٹس پر ایپلیکیشن فیس بھی عائد کردی گئی، پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ نے بھی اس تبدیلی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پی پی آئی بی نےمطالبہ کیاتھا 25کلوواٹ یا کم کےنظاموں کے لیے پرانے منظوری والے نظام کو برقرار رکھا جائے، موجودہ طریقۂ کار قومی سطح پرقابلِ تجدیدتوانائی کوفروغ دینےکی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔


























Leave a Reply