انڈوں کو صحت کے لیے بہت زیادہ مفید قرار دیا جاتا ہے اور انہیں کھانے سے جسمانی و دماغی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔
اب دریافت ہوا ہے کہ انڈوں کو اکثر کھانے سے الزائمر سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل آف نیوٹریشن میں شائع تحقیق میں غذائی عادات سے وقت کے ساتھ دماغی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ انڈے کھانے اور دماغی تنزلی کے خطرے میں کمی کے دوران تعلق موجود ہے یا نہیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اعتدال میں رہ کر انڈے کھانے جیسے ہفتے میں ایک بار یا مہینے میں چند بار کھانے سے بھی دماغی تنزلی کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق زیادہ انڈے کھانے سے الزائمر سے زیادہ تحفظ ملتا ہے۔
البتہ تحقیق میں انڈے کھانے سے الزائمر کے خلاف ملنے والے تحفظ کا براہ راست تعلق ثابت نہیں کیا جاسکا۔
مگر محققین کا کہنا تھا کہ غذائی اجزا سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے طویل المعیاد بنیادوں پر دماغی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ انڈوں کو متوازن غذا کا حصہ بنانے سے وقت کے ساتھ دماغی افعال بہتر ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دریافت کیا کہ ہر ہفتے 5 یا اس سے زائد بار انڈے کھانے والے افراد میں الزائمر کا خطرہ سب سے زیادہ کم ہوتا ہے۔
محققین کے مطابق انڈوں میں متعدد ایسے غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں جو دماغی افعال کے لیے مفید ہوتے ہیں۔
ان میں کولین سب سے اہم جز ہے جو یادداشت اور سیکھنے کے عمل کے لیے اہم ہوتا ہے جبکہ ان سے جسم کو وٹامن بی 12 اور صحت کے لیے مفید چکنائی بھی ملتے ہیں جو دماغی خلیات کی ساخت اور افعال کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔
محققین نے کہا کہ یہ غذائی عناصر ممکنہ طور پر انڈوں کو دماغ کے لیے بہترین بناتے ہیں مگر فی الحال اس کو ثابت نہیں کیا جاسکا۔
انہوں نے زور دیا کہ صرف انڈے ہی حل نہیں، ان سے خطرہ کم ہوتا ہے مگر جسمانی سرگرمیوں، مناسب نیند، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کو کنٹرول میں رکھنا بھی ضروری ہے۔


























Leave a Reply