اسلام آباد : وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں بزرگ شہری کو جھاڑ پلادی انہوں نے کہا کہ ویڈیو بنوانے کے بجائے مجھ سے آکر بات کرو۔
مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس کے دوران وہاں موجود ایک شہری نے واقعے پر افسوس کا اطہار کرتے ہوئے وزیر صحت سے کہا کہ پمز اسپتال کے اندوہناک واقعے میں جو لوگ بھی ملوث ہیں ان لوگوں کیخلاف ایف آئی آردرج ہونی چاہیے۔
جس کے جواب میں مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ آپ بھی وہاں کھڑے ہوکر ویڈیو ہی بنوا رہے ہو، یہاں آکر مجھ سے بات کرو، جس کے جواب میں بزرگ شہری نے کہا کہ مجھے ویڈیو بنوانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔
واضح رہے کہ وفاق کے زیرانتظام پمز اسپتال کے نرسری وارڈ میں خوفناک آتشزدگی سے 14 نومولود جاں بحق پوگئے۔ اپنے بچوں کی جلی ہوئی لاشیں دیکھ کر والدین غم سے نڈھال ہیں۔
اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود بچے جاں بحق
ایک خاتون نے روتے ہوئے بتایا کہ آگ لگنے سے پہلے ہی نرسری وارڈ پر تالے لگے ہوئے تھے، ڈاکٹرز اور عملہ بھی موجود نہیں تھا، صرف بچے جلے لیکن عملے کے کسی ملازم کو کچھ نہیں ہوا، اسپتال کی بھی ہر چیز ٹھیک ہے۔
مرنے والے ایک بچے کے والد نے کہا کہ انتظامیہ نے ہماری مدد کے بجائے ہم پر ہی اسہپتال کے دروازے بند کردیے۔
