Preloader

کھٹمنڈو (26 اگست 2026) : نیپال اور تبت کے سرحدی علاقے میں آنے والے زلزلے اور سیلاب نے قیامت صغریٰ بپا کردی، مختلف حادثات میں کم از کم 9 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔

زلزلے کے بعد برف اور چٹانوں کا تودہ دریا میں گرنے سے ہر طرف تباہی مچ گئی، سڑکیں، پل اور مکانات کاغذ کی مانند بہہ گئے، اب تک 384 شہری لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تباہ کن سیلابی ریلے نے سڑکوں، پلوں، مکانات اور بجلی کے منصوبوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ مٹی کے تودے نے تبت سے ملحقہ اہم زمینی گزرگاہ گیرونگ پورٹ کو بھی متاثر کیا، جس کے باعث سڑکوں، مواصلاتی نظام اور بجلی کی فراہمی میں خلل پڑا۔

flood on Nepal Tibet border 2026

قیامت خیز زلزلے اور سیلاب سے پوری کی پوری آبادی کا وجود ہی ختم ہوگیا، سیکڑوں سیاح لاپتہ ہوگئے، جن میں 12 برطانوی بھی شامل ہیں۔

سیلاب بدھ کی صبح سویرے نیپال کے دار الحکومت کٹھمنڈو کے شمال میں واقع ضلع رسووا میں آیا، برف کا غیرمعمولی رفتار سے پگھل کر بھوٹے کوشی دریا میں شامل ہونا سیلاب کا سبب بنا۔

تبت اور نیپال کی سرحد کے دونوں جانب سرچ آپریشن جاری ہیں۔ اب تک 12 افراد کو بچایا جاسکا ہے۔ چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تبت میں جانی نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے انہیں بڑے پیمانے پر نقصان کا خدشہ ہے۔

Nepal floods at China border 2026

حکام کے مطابق تاحال 384 افراد لاپتا ہیں، جن میں 105 بھارتی، 93 نیپالی، 3 امریکی اور 12 برطانوی شہری شامل ہیں۔

نیپال میں پن بجلی کے منصوبے پر کام کرنے والے 8 جنوبی کوریائی شہری بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔ دیگر لاپتا افراد میں 17 ملائیشین، 4 جنوبی افریقی جبکہ آسٹریلیا اور نیدرلینڈز کا ایک، ایک شہری شامل ہے۔

flash flood at Trishuli, Nepal 2026

نیپال کے متعلقہ حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ ابھی مکمل طور پر ٹلا نہیں کیونکہ دریا کے بالائی حصے میں رکاوٹ بدستور موجود ہے، جس کے باعث دوسرے سیلاب کا خدشہ برقرار ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *