نوجوانوں میں دل کے دورہ پڑنے کے کیسز میں اضافے کی وجہ سامنے آگئی۔
جیسے جیسے زندگی گزارنے کا طریقہ تبدیل ہورہا ہے اسی طرح صحت کے مسائل میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے، ہائی بلڈپریشر، ذیابیطس، فالج اور کینسر سمیت دیگر بیماریاں تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کی بنیادی وجہ صحت مند زندگی سے دوری ہے۔
ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ امراض قلب کا سامنا بڑھاپے یا کم از کم درمیانی عمر میں ہوتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں جوان افراد میں دل کے امراض کی شرح میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔
حال ہی میں فن لینڈ کی اولو یونیورسٹی کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی جس سے معلوم ہوا کہ مکمل نیند نہ لینا اور وقت پر نہ سونے کی وجہ سے دل کے امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔
اس تحقیق میں 40 افراد نے حصہ لیا جن کے سونے کے اوقات پر نظر رکھی گئی اور تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ تاخیر سے سونا اور نیند پوری نہ کرنے کی وجہ سے دل کے دورے کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے۔
محققین نے 10 سال سے زائد عرصے تک ہزاروں لوگوں کا مشاہدہ کیا اور بتایا کہ 8 گھنٹے سے کم سونے والے لوگوں کو دل کے دورے اور فالج کے خطرے کا دگنا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
نیند کی روٹین کو کیسے ٹھیک کیا جائے؟
ماہرین قلب کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو دل کے دورے کا خطرہ کم کرنے کیلئے چاہیے کہ وہ اپنے سونے اور جاگنے کی روٹین کو درست کرے، باقاعدگی سے اپنی نیند پوری کرے۔
اس کے علاوہ سونے سے 60 منٹ پہلے اسکرین ٹائم سے پرہیز کریں، اس عادت کو اپنا کر آپ اپنی نیند کو بہتر کرسکتے ہیں۔
سونے سے قبل مرچ مصالحے اور تلے ہوئے کھانوں سے پرہیز کیا جائے اور شام 4 بجے کے بعد سے چائے کافی کے استعمال کو کم کیا جائے۔

























Leave a Reply