ایران اور امریکہ کے درمیان اپریل میں پاکستان میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات اور ایک نازک جنگ بندی کے دوران، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو نے ہزاروں ویوز حاصل کیے ہیں۔ اس کلپ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے پاکستان کے آرمی چیف، فیلڈ مارشل عاصم منیر پر دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کے دوران ”ڈبل گیم“ کھیلنے کا الزام لگایا ہے۔
یہ دعویٰ بے بنیاد ہے۔
دعویٰ
24 اپریل کو، ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک صارف نے پوسٹ کیا: ”IT’S OFFICAL NOW، ایران کا سرکاری ٹی وی چینل اب نام لے کر الزام لگا رہا ھے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ھے۔“
اس پوسٹ میں فارسی زبان کی ایک 26 سیکنڈ کی ویڈیو شامل تھی جس میں ایک نیوز اینکر کو دیکھا جا سکتا ہے جو بظاہر کوئی خبر نشر کر رہا ہے۔
اس آرٹیکل کے شائع کیے جانے کے وقت تک پوسٹ کو1 لاکھ 37 ہزار بار دیکھا، 1 ہزار 900 مرتبہ لائک اور 724 دفعہ ری پوسٹ کیا گیا۔
اسی طرح کے دعوے ایکس، فیس بک اور ٹک ٹاک پر بھی گردش کر رہے ہیں۔
حقیقت
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام کے میزبان نے پاکستان کے آرمی چیف کے بارے میں ایسا کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
کی فریم اینالیسس (keyframe analysis) کی مدد سے جیو فیکٹ چیک نے اصل ویڈیو کا سراغ لگایا، جو 20 اپریل کو ایرانی اسٹریمنگ پلیٹ فارم ‘ٹیلی ویبن’ (Telewebion) پر شائع کی گئی تھی۔
یہ کلپ ایران کے سرکاری نیوز چینل IRINN پر نشر ہونے والی ایک نشریات سے لیا گیا ہے۔ پانچ منٹ سے زیادہ طویل اس مکمل حصے میں ایک اینکر ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے پس پردہ مذاکرات کا تجزیہ پیش کر رہا ہے۔
جیو فیکٹ چیک کی جانب سے فارسی آڈیو کے ترجمے سے معلوم ہوتا ہے کہ اینکر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تین روزہ دورہ ایران کے بارے میں بات کر رہا ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ان سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ایران کی تجاویز امریکہ تک پہنچائیں گے۔
پورے پروگرام کے دوران اینکر نے کہیں بھی پاکستانی فوجی سربراہ پر ”ڈبل گیم“ کھیلنے کا الزام نہیں لگایا۔
اصل خبر کی نشریات یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ، پروگرام کے میزبان سرباز رضوی نے بھی عوامی سطح پر اس وائرل دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا: ”اس ٹی وی پروگرام کا جو ہوسٹ ہے وہ میں ہی ہوں اور میں اردو جانتا ہوں اور جو کیپشن اس پوسٹ پہ ہے وہ پکا جھوٹ ہے کیونکہ جو بات اس کٹ میں ہے، اس پروگرام کے کٹ میں وہ ٹوٹلی vice versa ہے، اس میں کوئی ایسا بات نہیں ہے کہ میں نے کہا ہے کہ عاصم منیر نے ایران کے ساتھ ڈبل گیم کررہا ہو اور ایسا اس میں کچھ نہیں، تو باقی جو ہے وہ جھوٹ ہے، والسلام۔“
فیصلہ: وائرل ہونے والی ویڈیو کو غلط رنگ دے کر پیش کیا گیا ہے۔ ایران کے سرکاری ٹی وی کی اصل نشریات میں ایسا کوئی الزام موجود نہیں ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر ”ڈبل گیم“ کھیل رہے تھے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔

























Leave a Reply