دسمبر 2025 میں میٹا نے ایک آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سپورٹ اسسٹنٹ کو متعارف کرایا تھا جس کا مقصد اکاؤنٹ ریکوری کا عمل تیز اور آسان بنانا تھا۔
یہ اے آئی اسسٹنٹ فیس بک اور انسٹا گرام صارفین کے لاک اکاؤنٹس کی ریکوری کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔
اب ایسا لگتا ہے کہ میٹا نے اپنے وعدے کو کچھ زیادہ ہی دل پر لے لیا تھا۔
ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہیکرز نے اسی اے آئی سپورٹ اسسٹنٹ کو متعدد انسٹا گرام اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
سکیورٹی محققین کے مطابق اس اے آئی ٹول ہیکرز کے لیے اکاؤنٹس کو ٹیک اوور کرنے کا عمل حیران کن حد تک آسان بنا دیا، چاہے ان اکاؤنٹس پر ٹو فیکٹر authentication ہی ان ایبل کیوں نہ ہو۔
اس کا انکشاف ایکس (ٹوئٹر کا نیا نام) کے متعدد سکیورٹی محققین نے کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اکاؤنٹس کو ہیک کرنے کے عمل کی تفصیلات، اسکرین شاٹس اور ویڈیوز وغیرہ بھی ٹیلیگرام پر گردش کر رہے ہیں۔
ان تصاویر اور ویڈیوز سے عندیہ ملتا ہے کہ ہیکرز اے آئی سپورٹ چیٹ بوٹ سے بس یہ کہتے ہیں کہ متعلقہ اکاؤنٹ سے منسلک ای میل کو تبدیل کر دیں اور پھر پاس ورڈ ری سیٹ کی درخواست کی جاتی ہے۔
میٹا کی جانب سے اب اس مسئلے کو فکس کیا جا رہا ہے مگر یہ واضح نہیں کہ یہ انکشاف سامنے آنے سے قبل کتنے اکاؤنٹس متاثر ہوچکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹیلیگرام میں اس سکیورٹی خامی کے بارے میں صارفین مارچ سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے میٹا کے ایک عہدیدار اینڈی اسٹون نے بتایا کہ اس مسئلے کو حل کر دیا گیا ہے اور ہم متاثرہ اکاؤنٹس کی اسکیننگ کر رہے ہیں۔
مگر کمپنی نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آخر اس اے آئی ٹول میں اتنی بڑی سکیورٹی کمزوری کیسے آگئی۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہیکرز نے دریافت کرلیا تھا کہ میٹا چیٹ بوٹ اکاؤنٹ ہولڈرز کی فزیکل لوکیشن پر انحصار کرکے سپورٹ کو ان ایبل کرتا ہے۔
تو ہیکرز وی پی این کو استعمال کرکے اپنی لوکیشن کو صارف کی لوکیشن سے میچ کرتے تھے۔
ویسے تو ابھی معلوم نہیں کہ اس اے آئی ٹول سے کتنے اکاؤنٹس کو ہیک کیے گئے مگر بظاہر متعدد ہائی پروفائل اکاؤنٹس کو ہیک کیا گیا جن میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کا وائٹ ہاؤس انسٹا گرام اکاؤنٹ بھی شامل ہے۔


























Leave a Reply