چین کے ایک سرکار عہدیدار کو مقامی سطح پر بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے۔
اس کی وجہ اس عہدیدار کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونا ہے جس میں وہ کیچڑ سے لت پت ہے اور ایک گاؤں میں تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ کے بعد وہاں رہنے والوں کے انخلا کو یقینی بنا رہا ہے۔
صوبہ یوننان کے گاؤں شانگ ہونگیان میں 17 مئی کی شام سے 18 مئی کی صبح تک بہت زیادہ بارش ہوئی اور 256 ملی میٹر پانی برسا۔
تیان ریولنگ نامی ولیج ڈائریکٹر 17 مئی کو رات 10 بجے کے بعد گھر سے 3 بار باہر نکلے تاکہ بارش کے بعد کی صورتحال پر نظر رکھ سکیں۔
18 مئی کو علی الصبح 3 بجے مقامی دریا میں پانی کی سطح خطرناک سطح تک بڑھ گئی۔
تیان ریولنگ کے مطابق ‘اس وقت مجھے لگا کہ پہاڑی منہدم ہو جائے گی اور سیلاب کا خطرہ بڑھ جائے گا’۔
انہوں نے فوری طور پر فیصلہ کیا کہ گاؤں کے ہر فرد کو بیدار کرکے محفوظ جگہ پر منتقل کیا جائے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ وہ اس وقت سڑک پر اکیلے پیدل چل کر گھر گھر جاکر لوگوں کو خبردار کر رہے تھے۔
انہوں نے ایک چھتری اور ایک الیکٹرک ٹارچ پکڑی ہوئی تھی اور چیخ کر کہہ رہے تھے کہ لوگوں بارش بہت زیادہ ہوگئی ہے، جلدی سے بیدار ہوکر محفوظ جگہ پر منتقل ہو جائیں۔
ایک سڑک کے کنارے وہ سیلابی پانی میں بہہ گئے مگر ایک بڑے درخت نے ان کی زندگی بچالی۔
چند منٹ بعد پانی کا بہاؤ اور سطح میں کمی آئی تو وہ اوپر محفوظ جگہ پر چڑھ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ‘میں جانتا تھا کہ یہاں خطرہ ہے مگر مجھے چل کر گاؤں والوں کو یہاں سے نکالنا تھا، مجھے سب کو منتقل کرنا تھا’۔
کیچڑ سے لت پت اور زخمی ہونے کی پروا کیے بغیر انہوں نے گھر گھر جاکر وہاں رہنے والوں کو جگایا۔
ان کی تصویر بھی اس وقت لی گئی جب وہ ایک گھر کے سامنے پہنچے تھے اور 2 گھنٹوں کی محنت کے بعد تمام گاؤں والوں کا انخلا مکمل کرلیا گیا۔
جب تمام افراد کو محفوظ جگہ پر منتقل کر دیا گیا تو ایک چٹان کا 10 ہزار کیوبک میٹرک حصہ منہدم ہوگیا اور آدھے گاؤں کو ڈھانپ دیا۔
تیان ریولنگ اور دیگر گاؤں والوں کو ملبے کی صفائی میں ایک ہفتے کا وقت لگا۔
گاؤں والوں کے مطابق ڈائریکٹر تیان ریولنگ نے ہمیں بچانے کے لیے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا، ہم اب ان کے ساتھ مل کر اپنے گھروں کو تعمیر کریں گے۔

























Leave a Reply