فضائی سفر بیشتر افراد کے لیے بہت زیادہ پرجوش کر دینے والا ہوتا ہے۔
اب یہ فضا میں اڑنے کا تجربہ ہو، 30 ہزار فٹ کی بلندی سے باہر کا نظارہ یا کسی نئی چیز کا خیال، یہ کسی ایڈونچر جیسا لگتا ہے۔
جس وقت آپ کسی طیارے پر سوار ہوتے ہیں تو ایک مخصوص پروٹوکول پر عمل کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔
جیسے سیٹ بیلٹ پہننا، ڈیوائسز کو ایروپلین موڈ پر سوئچ کرنا اور عملے کی حفاظتی ہدایات کو سننا۔
ویسے تو پروٹوکول ہمیشہ ایک جیسا ہی رہتا ہے مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آخر طیارے کے ٹیک آف یا لینڈ کرنے کے وقت فوڈ ٹرے کو بند کرنے کی ہدایت کیوں کی جاتی ہے؟
بظاہر تو یہ چھوٹی چیز نظر ٓتی ہے مگر طیارے کا عملہ اس پر سختی سے عملدرآمد کراتا ہے۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ فوڈ ٹرے کو بند کرانے کا عمل فضائی سفر میں تحفظ کے حوالے سے بہت اہم ہوتا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ ایمرجنسی کے دوران مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی جانب سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ایمرجنسی حالات میں 90 سیکنڈ کے اندر مسافروں کا انخلا ممکن ہو۔
عام طور پر طیاروں کے لگ بھگ 50 فیصد حادثات ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران ہوتے ہیں تو ہر سیکنڈ اہمیت رکھتا ہے اور ہر کھلی ہوئی ٹرے ایک رکاوٹ بن سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ بہت زیادہ وقت نہیں ہوتا اور عام طور پر اس بارے میں مسافروں سے بات نہیں کی جاتی، مگر جب کسی طیارے میں ایمرجنسی حالات ہوں اور فوڈ ٹرے کھلی ہوئی ہو تو آپ طیارے سے 90 سیکنڈ کے اندر باہر نہیں نکل سکتے یا آپ کے پیچھے موجود افراد 90 سیکنڈ تک اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتے۔
اس اصول کا اطلاق دنیا بھر میں ایوی ایشن انتظامیہ کی جانب سے کیا جاتا ہے اور ٹیک آف یا لینڈنگ کے دوران رکاوٹوں کو کلیئر رکھا جاتا ہے تاکہ مسافر جلدی باہر نکل سکیں۔

























Leave a Reply