جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مطالبہ کیا ہےکہ ملک میں دوبارہ آزاد شفاف اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں تاکہ حقیقی عوامی نمائندگی سامنے آسکے۔
کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ صدر زرادی ایوان صدر میں رہتے ہوئے کوئی سیاسی کردار ادا نہیں کرسکتے، انہیں نیچے اتر کر بات کرنا ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک جس گھمبیر صورتحال سے دوچار ہے اسے سنجیدگی سے لیا جائے، کے پی اور بلوچستان میں امن وامان مخدوش ہے، اندرون سندھ ڈاکوؤں کا راج ہے، حکمران امن وامان کے لیے سنجیدہ نہیں، نہ معیشت کی فکر ہے، آج کوئی شخص روزمرہ کی ضرورت پوری نہیں کرسکتا ہے نہ بچوں کو اچھی تعلیم دلاسکتا ہے، بین الاقوامی حالات کو بنیاد بنا کر عوام پر مہنگائی کا پہاڑگرا دیا گیا ہے۔
مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بظاہر عوام کو ووٹ ڈالنےکی اجازت ہے لیکن عوامی رائے کو بدل دیا جاتا ہے، آج کی پارلیمنٹ کیا قوم کی نمائندہ ہے؟ یہ زبردستی کب تک چلےگی، عوام سے ہی ریاست بنتی ہے، اس پہلو کو نظرانداز کیا جائے تو کیا بچتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اٹھائیسویں ترمیم پرحکومت کی طرف سےکوئی واضح بات نہیں آئی، ہم نظام کے اندر رہتے ہوئے ہر معاملے پربات کرنےکے لیے تیار ہیں، ہم نظام سے باہرکسی مسئلے پر بات کرنے کے قائل نہیں، الیکشن دوبارہ شفاف ہوناچاہیے تاکہ ملک آگے بڑھے اور عوام کے مسائل حل ہوں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ دونوں ممالک کو مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔


























Leave a Reply