مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے سائے منڈلانے لگے ہیں جس کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہاز پر میزائل داغنے اور متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں واقع پیٹرولیم صنعتی تنصیب پر حملوں کے بعد عالمی منڈیوں میں پہلے سے موجود تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت ساڑھے 5 ڈالر کے اضافے سے 113.72 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 3 اعشاریہ 30 ڈالر کے اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہورہا ہے۔ یو اے ای مربن کروڈ بھی 2.74 ڈالر فی بیرل کے اضافے سے 106.50 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات او اے پیک سے بھی علیحدہ ہوگیا
دوسری جانب متحدہ عرب امارات اوپیک اور اوپیک پلس کے بعد پیٹرولیم برآمد کرنے والے عرب ممالک کی تنظیم (او اے پیک) سے بھی علیحدہ ہوگیا ہے۔
او اے پیک کے جنرل سیکرٹریٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ یو اے ای کے رکنیت کے دوران ادا کیے گئے کردار اور تیل و توانائی کے شعبے میں مشترکہ عرب تعاون کے لیے اس کی فعال خدمات کو سراہتا ہے۔ ساتھ ہی اس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ رکن ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی حکمت عملی، پروگرامز اور اقدامات کے ذریعے کام جاری رکھےگا۔
امریکی میڈیا کے مطابق او اے پیک پیداوار کی کوئی حد مقرر نہیں کرتا، اس لیے اس سے علیحدگی کا تعلق فوری طور پر تیل کی فراہمی سے نہیں ہے۔ یو اے ای اپنی پیداوار بڑھانے اور برآمدی پالیسی پر خود مکمل کنٹرول حاصل کرنےکا ارادہ رکھتا ہے۔
پیر کے روز ایک انٹرویو میں یو اے ای کے وزیر توانائی سہیل محمد المزروعی نے برطانوی خبر ایجنسی کو بتایا کہ یہ فیصلہ قومی معاشی مفاد میں کیا گیا ہے، یہ ایک پالیسی فیصلہ ہے جو موجودہ اور مستقبل کی پیداوار سے متعلق پالیسیوں کا بغور جائزہ لینےکے بعد کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یو اے ای اپنے ذخائر کو جلد از جلد استعمال میں لا کر زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے، اس سے پہلےکہ دنیا قابل تجدید توانائی کی طرف مزید منتقل ہو جائے۔


























Leave a Reply