ہر شہر اور قریہ میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو عام لوگوں سے مختلف اور یکتا شناخت رکھتے ہیں۔ ان کی چال ڈھال اور خصلتیں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں اور وہ ان کے محبوب بن جاتے ہیں۔ استاد رسا بھی ایسے ہی لوگوں میں ایک تھے۔ ان کی بنیادی شناخت تو شاعری تھی، لیکن شاعری کے سوا ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو وہ گالیاں تھیں جو پرانی دلّی میں آج بھی اپنی الگ پہچان رکھتی ہیں۔
استاد رسا ایک قلندرانہ صفات کے حامل شاعر تھے، لیکن پرانی دلّی کے گلی کوچوں میں ان کا شہرہ شاعری سے زیادہ ان بلیغ گالیوں کی وجہ سے تھا جو ان کی نوک زبان پر ہمہ وقت رہتی تھیں اور جنھیں سننے کے لیے لوگ ان سے چھیڑ چھاڑ کیا کرتے تھے۔ اردو شاعری کی پوری تاریخ میں شاید ہی ان جیسا کوئی دوسرا شاعر گزرا ہو جو شاعری اور گالیوں پر یکساں عبور رکھتا تھا۔ ڈاکٹر اسلم پرویز کے بقول:
“ان کی گفتگو میں گالیوں کی مقدار نمک میں آٹے کی برابر ہوتی تھی۔”
جو کوئی ان کی گالیوں کا حال سنتا تو ان سے ملنے کا متمنی ہوتا تھا، لیکن وہ ہر ایرے غیرے کے سامنے گالیاں بکنا بھی کسر شان سمجھتے تھے۔ اس کے لیے ایک مخصوص موڈ اور محفل کی ضرورت ہوتی تھی اور انھیں مشتعل کرنے والا خاص پس منظر بھی۔
استاد رسا دہلوی‘ داغ اور بیخوددہلوی کی شعری روایت کے سچے امین تھے۔ انھوں شاعری میں خاصی مشق بھی کی تھی، لیکن ان کا بیشتر کلام ضائع ہوگیا۔ وہ مشاعروں میں اکڑوں بیٹھ کر شعر پڑھنا پسند کرتے تھے اور شعر پڑھتے وقت مصرعے کے ساتھ خود بھی گھٹنوں کے بل اٹھتے چلے جانا ان کی خاص پہچان تھی۔ شعر سناتے وقت ان کا جوش و خروش دیدنی ہوتا تھا۔
استاد رسا حضرت بیخود دہلوی کے نہایت سعادت مند شاگرد تھے، لیکن خود ان کے شاگردوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوگئی تھی کہ وہ عرف عام میں ’استاد‘ مشہور ہوگئے تھے۔ وہ اپنے استاد بیخود دہلوی کے انتقال کے بعد ان کی یاد میں ہر سال ایک عوامی مشاعرہ کرتے تھے، جس کی تیاری وہ پورے سال کرتے تھے۔ مشاعرے سے کئی ماہ پہلے اس کے پوسٹر دیواروں پر چسپاں ہوجاتے تھے۔ مشاعرے سے کچھ پہلے جامع مسجد کے علاقے کو یوں سجایا جاتا گویا کسی شادی کی تیاری ہو۔ یوں لگتا تھا کہ ان کی زندگی کا مقصد یہی مشاعرہ رہ گیا ہے۔ افسوس کہ یہ عوامی مشاعرہ کچھ کھلنڈروں کی شرارتوں کی نذر ہوگیا۔
ڈاکٹر اسلم پرویز نے استاد رسا کے نہایت مرصع خاکے میں ان کاحلیہ کچھ اس انداز میں بیان کیا ہے: “چھریرا بدن، نکلا ہوا قد، سانولا رنگ، سر پر پوری طرح منڈھی ہوئی ململ کی ٹوپی، پیشانی پر عین وسط میں ٹوپی کے کنارے کو چھوتا ہوا دہکی ہوئی رات جیسا نماز کا گٹا، ستواں ناک، ہر وقت پان کھاتے رہنے کی وجہ سے لب اور دہن گلنار، سامنے کے دانت پان کی زیادتی سے قدرے سیاہی مائل، با شرع مسلمانوں کی طرح ترشی ہوئی مسیں، کھچڑی داڑھی مگر ایسی کھچڑی جس میں چاول کی مقدار کچھ زیادہ ہو، داڑھی کے بیچوں بیچ پان کی پیک کی سرخ لکیر، چہرہ لمبوترا جو سوا مٹھی ڈاڑھی سے کچھ اور لمبوترا دکھائی دیتا تھا، کالی واسکٹ‘ اس کے نیچے معمولی سے سوتی کپڑے کی قمیض، گردن میں لٹکا ہوا بڑا سا رومال یا چادر جس کے دونوں سے سرے سامنے کی جانب دائیں اور بائیں طرف لٹکے ہوئے، ذرا چوڑی موری کا گاڑھے یا گزی کا اٹنگا پاجامہ، ایک بغل میں کاغذوں کا پلندہ اور دوسرے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی چھڑی۔ یہ تھے استاد رسا دہلوی۔”
استاد رسا کھرے دلّی والے تھے۔ وہ فصیل بند شہر کے لوگوں کو ہی اصلی دلّی والا مانتے تھے۔ دہلی کے باقی علاقوں میں رہنے والوں کو وہ’غیر ملکی‘ تصور کرتے تھے۔ انھیں اس بات کا قلق تھا کہ انگریزوں نے جمنا کے اوپر پل بنا کر دلّی کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ نہ یہ پل ہوتا اور نہ باہر کے لوگ دلّی آتے۔ سنا ہے انھیں فٹبال کھیلنے کا بھی شو ق تھا۔ بنیادی طور پر وہ ایک آزاد منش انسان تھے۔ بیوی بچوں کو بوجھ سمجھتے تھے، اس لیے یہ روگ بھی انھوں نے نہیں پالا تھا۔ ان کے مزاج اور چال ڈھال میں بلا کا بانکپن تھا۔ ان کے ہاں دوستی اور دشمنی کے درمیان بیچ کا راستہ نہیں تھا۔ مخالفوں کا شجرۂ نسب انھیں منہ زبانی یاد رہتا تھا اور وقت ضرورت اس کے بیان میں انھیں کوئی دقت پیش نہیں آتی تھی۔
عمر کے آخری ایام میں دن میں ان کا ٹھکانہ حاجی ہوٹل ہوتا تھا۔ رات وہ درگاہ شیخ کلیم اللہ میں بسر کرتے تھے۔ 8 اکتوبر 1976ء کو انھوں نے بعارضہ کینسر 76 سال کی عمر میں وفات پائی۔
(معصوم مراد آبادی کی تحریر سے پارے)
