بیروت: لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حکومت اور عوام کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔
امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں لبنان کے صدر نےکہا کہ عسکری حل اسرائیل کے لوگوں کو کبھی تحفظ اور سلامتی نہیں دے سکتا، ہم بات چیت کیلئے تیار اور پرعزم ہیں، اگر اسرائیلی بھی تیار ہیں تو آئیں بیٹھیں اور بات کریں۔
لبنانی صدر نے خبردار کیا کہ فوجی حل آپ کو کبھی بھی سلامتی اور تحفظ فراہم نہیں کرے گا۔
لبنانی صدر نے کہا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق کوئی بھی معاہدہ عدم جارحیت کا ہوگا، مکمل امن معاہدہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کی حالت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا، اور یہ (عدم جارحیت کا) معاہدہ ایک منصفانہ اور پائیدار امن کی جانب راستہ بن سکتا ہے۔
عون کے مطابق لبنان 2002 کی عرب امن پہل کے مطابق پیش رفت کرے گا، جس کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام اور مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے انخلا کے بدلے عرب دنیا میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی پیشکش کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ لبنانی حکومت، امریکا کی ثالثی میں، اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کر رہی ہے تاکہ مکمل جنگ بندی تک پہنچا جا سکے۔


























Leave a Reply