سندھ پولیس منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف مقدمہ قتل کا مضبوط عبوری چالان پیش کرنے میں ناکام رہی۔
پولیس نے چالان کے ہمراہ اسکروٹنی رپورٹ بھی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کروائی۔
پنکی کی سزا یقینی بنانے پر مامور سرکاری وکیل ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عارف سیتائی خود پنکی کا دفاع کرنے پر مجبور ہوگئے اور پولیس کے عبوری چالان پر اعتراضات کی لائن لگادی۔
ڈسٹرکٹ پبلک پراسکیوٹر عارف سیتائی نے چالان کی اسکروٹنی نوٹ پر اعتراضات لگاتے ہوئے کہا کہ وقوعہ اور مقدمےکے اندراج میں تقریباً ایک ماہ کی تاخیر پائی گئی ہے۔ چارج شیٹ جمع کروانے میں بھی 12 دن کی تاخیر کی گئی ہے۔ تفتیشی افسر متوفی کی شناخت کے لیے معلومات جمع کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تفتیشی افسر نے جائے وقوع اور گردونواح کی سی سی ٹی فوٹیج جمع کرنے یا محفوظ کرنے میں غفلت برتی ہے، ڈیجیٹل شواہد متوفی کا ملزمہ سے منشیات ڈیلرز سے روابط ثابت کرنے کے لیے اہم تھے۔
ڈسٹرکٹ پبلک پراسکیوٹر نے اعتراض لگایا کہ تفتیشی افسر نے آزاد چشم دید گواہان کو تلاش کرنے یا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ایسے گواہان کے بیانات اہم تھے جنہوں نے مقتول کو ممنوعہ منشیات خریدتے یا ملزمہ کے کارندوں کے ساتھ ملتے ہوئے دیکھا ہو جب کہ متوفی کے جسمانی اعضا کے نمونوں کی کیمیکل جانچ کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے، موجودہ تفتیش تاحال نامکمل ہے، مزید شواہد جمع کیے جائیں۔
ڈسٹرکٹ پبلک پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ عبوری رپورٹ قانون کے مطابق عدالت کو ارسال کی جارہی ہے، تفتیش مکمل ہونے اور فرانزنک رپورٹس موصول ہونے کے بعد حتمی چالان پیش کیا جائےگا۔


























Leave a Reply