قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے غذائی تحفظ کے اجلاس میں جوسزبنانے والی کمپنیوں کی جانب سے آم کے گودے کے بجائے مصنوعی ذائقہ استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سید حسین طارق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں آم کی پیداوار، جوس انڈسٹری، زرعی مسائل، کھاد کی قیمتوں اور برآمدات سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں پاکستان مینگو ایسوسی ایشن کے صدر ملک جہانزیب نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں آم کی پیداوار ایک لاکھ 80 ہزار ٹن تک کم ہوئی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جوس بنانے والی کمپنیاں آم کے استعمال کے بجائے مصنوعی فلیور استعمال کر رہی ہیں اور 2021 میں حکومت نے انہیں اس کی اجازت دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذائقے صحت کیلئے نقصان دہ ہیں اور ان کے استعمال پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
چیئرمین کمیٹی سید حسین طارق نے اس معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی فلیور والے جوس بچوں میں کینسر جیسے امراض کا سبب بن رہے ہیں جبکہ اس سے آم کی فروخت اور کاشتکاروں کی آمدن بھی متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ قواعد میں تبدیلی کر کے ایسی مصنوعات کی اجازت کس نے دی؟
سیکرٹری قومی غذائی تحفظ نے کمیٹی کو بتایا کہ اس معاملے پر کافی غور کیا گیا تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ انہوں نے تجویز دی کہ متعلقہ ادارہ جوسز کا معائنہ اور ٹیسٹنگ کر کے اپنی رپورٹ کمیٹی کو پیش کرے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا کہ کسانوں اور جوس بنانے والی کمپنیوں کو کمیٹی کے سامنے بلایا جانا چاہیے تاکہ تمام فریقین کا مؤقف سنا جا سکے۔
کمیٹی نے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی کہ جوسز کے معیار اور اجزاء کا جائزہ لے کر ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کی جائے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کے حکام نے اجلاس کو بتایا کہ جوسز میں کم از کم 25 فیصد پھلوں کا مواد شامل ہونا چاہیے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پھلوں کی برآمدات کیلئے گتے کے ڈبوں کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس میں زرعی شعبے کو درپیش دیگر مسائل بھی زیر غور آئے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پنجاب میں آلو کی فصل میں کسانوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا اور اب آم کے شعبے کو بھی اسی قسم کے خطرات لاحق ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے بتایا کہ آلو کے مسئلے کے حل کیلئے وزیراعظم کی ہدایت پر ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی۔
کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں گندم کی پیداوار 20.9 ملین میٹرک ٹن رہی ہے جبکہ ڈی اے پی کھاد کا ایک بیگ 16 ہزار 900 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق درآمدی کھاد منگوائی جا رہی ہے تاہم متعلقہ جہاز ابھی تک پاکستان نہیں پہنچا۔
اجلاس کے دوران رکن کمیٹی رانا محمد حیات خان نے کپاس کے شعبے پر تفصیلی بریفنگ طلب کی جس پر وفاقی وزیر نے آئندہ اجلاس میں بریفنگ دینے کی یقین دہانی کرائی۔
برآمدی منڈیوں کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یورپی منڈیوں پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ وزارت خارجہ کے حکام نے بتایا کہ مختلف ممالک کو خطوط ارسال کیے جا چکے ہیں اور جلد مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔ وزارت تجارت نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ چین کو آم کی برآمدات جاری ہیں جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ بھی مارکیٹ تک رسائی کیلئے بات چیت جاری ہے۔


























Leave a Reply