امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل نائب امریکی صدر جے ڈی وینز اور حکام نے طویل میڈیا بریفنگ کے دوران سب سے پہلے امریکا کے نعرے کے تحت ملازمتوں میں امریکی ورکروں کو ترجیح دینے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان امریکا میں اعلیٰ اور ہائی ٹیک ملازمت کے لئے جاری اسکیم ایچ ون بی ویزا (H-1B Visa) اور دیگر ورک ویزا پروگراموں میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی حکومت اور انتظامیہ نے اس حوالے سے تحقیقات مکمل کرنے اور پالیسی سے متعلق اہم اقدامات کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے جو کہ بھارتی اثر و رسوخ کے لئے شدید دھچکا اور بھارت کی سرکار کے لئے باعثِ تشویش ہے۔ اس کی تفصیل جاننے سے پہلے یہ جان لیں کہ یہ ویزا کیا ہے اور بھارت کے لئے کیسے سود مند تھا۔
حال ہی میں بھارت کی شدت پسند تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے امریکا کا دورہ کیا تھا جس کے بعد امریکی حکام کا یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔ دراصل موہن بھاگوت نے اپنے دورۂ امریکا میں وہاں ٹیک انڈسٹری سے وابستہ ہنرمندوں اور اعلیٰ عہدوں پر فائز بھارتی شہریوں کو اپنے خطاب میں یہ پیغام دیا تھا کہ وہ امریکا میں اپنا اثر و رسوخ بڑھائیں اور اپنے سیاسی چندے کی بنیاد پر پالیسی سازوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوں، مگر صدر ٹرمپ کا امریکی ووٹروں سے یہ وعدہ تھا کہ وہ ملازمتوں میں امریکی ورکروں کو آگے لائیں گے۔ ٹرمپ اب اپنا وعدہ نبھانے کی تیاری کررہے ہیں جس نے بھارتی سیاسی چندے کی بنیاد پر مخصوص عزائم کی تکمیل کا خواب دھندلا دیا ہے اور اس کے مقابلے میں امریکی نعرہ جیت گیا ہے۔
ایچ ون بی ویزا ریاست ہائے متحدہ امریکا کا ایک نان امیگرنٹ (غیر مستقل) ویزا ہے۔ یہ امریکی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ دنیا بھر سے اعلیٰ تعلیم یافتہ، اپنے شعبے کے ماہر اور تکنیکی صلاحیتوں کے حامل افراد کو عارضی طور پر ملازمت کے لیے امریکا بلا سکیں۔ ایچ ون بی ویزا عام طور انفارمیشن ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر انجینئرنگ، فنانس اکاؤنٹنگ، انجینئرنگ، آرکیٹیکچر، سائنسی تحقیق، ادویات سازی، تعلیم اور قانون جیسے شعبوں میں دیا جاتا رہا ہے۔ اس کا مقصد امریکی کمپنیوں کی نالج اکانومی کو اعلیٰ معیار کے مطابق رکھنا اور دنیا کے دیگر ملکوں سے باصلاحیت اور قاببل افراد کو امریکا لا کر ان کے ذریعے اپنی معیشت کو مستحکم رکھنا تھا۔
اس ویزا کے لئے بنیادی شرط درخواست دہندہ کی کسی امریکی کمپنی میں ملازمت ہے۔ اس ویزا کی مدت تین سال ہے جس میں مزید تین سال کی توسیع ممکن ہے۔ اس کے بعد حاملِ ویزا امریکا میں عارضی رہائش یعنی گرین کارڈ کے لئے بھی درخواست دے سکتا ہے۔
بھارت نے نائن الیون کے بعد امریکا میں اسلاموفوبیا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی حکام کو یہ باور کرایا کہ وہی اس خطّے میں چین کے اثر و رسوخ اور یہاں شدت پسند مسلمانوں کے خلاف اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ متعدد امریکی صدور نے اس عظیم سانحے کے بعد بھارت کو اہمیت دی جس کا بھارتیوں نے ایسا فائدہ اٹھایا کہ سفید فام نسل پرست امریکی بھی چیخ پڑے ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ بھارتی ہی دنیا کے بہترین پروفیشنل نہیں ہیں مگر اس کے باوجود ایچ بی ون کے لئے 70 فیصد حصہ بھارتی شہریوں کو ملنے لگا اور آج امریکا میں لاکھوں ہائی ٹیک پروفیشنل، انجینئر اور آئی ٹی ماہرین بھارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ امریکی حکومت کی جانب سے کسی بھی بڑے فیصلے، پالیسی یا پابندی کا براہِ راست اثر بھارتی کمیونٹی پر پڑتا ہے۔ ایچ ون بی ویزا کا بھرپور فائدہ اٹھانے کے لئے بھارت کی بڑی کمپنیوں نے امریکا میں اپنے دفاتر قائم کئے اور بڑے پیمانے پر بھارتیوں کو امریکا منتقل کرکے پرمننٹ لیبر سرٹیفیکیشن کے حصول میں ان کی معاونت کی۔ اس کا ایک بڑا مقصد امریکا میں بھارتیوں کا دائرۂ اثر بڑھانا اور ایسی اہم کمیونٹی کے طور پر قدم جمانا تھا جو مقامی سیاست میں اثر و رسوخ رکھتی ہو۔
بھارت اپنے مقصد میں کامیاب بھی رہا، مگر پھر اس ویزا پالیسی کے غلط استعمال کی خبریں سامنے آنے لگیں اور تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوا تو بھارتی شہریوں اور امریکا میں بھارتی کمپنیوں کی جانب سے دھوکہ دہی کے ثبوت بھی مل گئے۔ نائب صدر نے اپنی میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، انفوسس، وپپرو، ایچ سی ایل، کوگنیزنٹ جیسی بھارتی کمپنیوں نے ویزا پالیسی کا غلط استعمال کیا ہے۔ ان کمپنیوں کے علاوہ امریکا سیلکان ویلی کے بڑے ٹیک جائنٹ جیسا کہ مائیکرو سافٹ ایڈوب پر بھی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ مقامی اور بھارتی کمپنیوں نے ویزا نظام کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی ورکروں کو نہ صرف نوکریوں سے محروم کیا بلکہ ان کی جگہ کم تنخواہ پر غیر ملکی ورکروں کو ملازمت دی۔ اس کا علم ہونے کے بعد ان کمپنیوں کو مستقل رہائشی پروگرام یا گرین کارڈ کے حصول سے روک دیا گیا ہے یا بلاک کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام نے متعدد بے ضابطگیوں اور فراڈ کی نشان دہی کی ہے۔
امریکی قانون کے مطابق کمپنیوں کو ایچ ون بی ویزا کے لئے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ انہیں کسی عہدے کے لئے امریکی شہری دستیاب نہیں ہورہا ہے۔ یہ کام ان کمپنیوں نے دھوکہ دہی سے انجام دیا۔ ان کی جانب سے جان بوجھ کر ایسے اخبارات یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر غیر مؤثر، ناقابلِ توجہ یا ناقابل رسائی جگہوں پر اشتہارات دیے گئے تاکہ امریکی شہری اسامی تک نہ پہنچ سکیں۔ اس کے علاوہ ان اشتہارات میں اہلیت کا معیار وہ دکھایا گیا جن کا متعلقہ عہدے سے براہ راست تعلق نہیں تھا تاکہ کوئی بھی مقامی امریکی ان ملازمتوں کے لئے درخواست نہ دے سکے۔ اس طرح کمپنی ثابت کرسکے کہ انہیں کہ مقامی سطح پر ورکر دستیاب نہیں ہے۔
امریکی حکام اور سفارتی ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایچ ون بی ویزا کے لئے درخواست میں اکثر امیدواروں کی تعلیمی اسناد جعلی یا ان کی مہارتیں مبالغہ آرائی پر مبنی تھیں۔ رپورٹوں میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بڑی تعداد میں غیر تسلیم شدہ تعلیمی اداروں کی جعلی ڈگریاں اور تجربہ کی اسناد فراہم کیے گئے جس سے ایک امیدوار کو متعلقہ شعبے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ثابت کیا گیا جب کہ ایسا نہیں تھا۔
ایک انکشاف یہ بھی ہوا کہ بھارت میں ایچ ون بی ویزا کے لئے ایسی کمپنیاں قائم کی گئیں جو وجود ہی نہیں رکھتی تھیں۔ یہ کمپنیاں پیشہ ورانہ تجربے کا جعلی سرٹیفکیٹ جاری کرتی تھیں جو ویزا درخواست کے ساتھ منسلک کیا جاتا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق بھارت میں ایجنسیوں اور مڈل مینوں کا بڑا نیٹ ورک قائم ہے جو امیدواروں سے رقم لے کر ان کو جعلی اسناد اور ویزا و ملازمت کے لئے ضروری کاغذات تیار کرکے دیتے تھے۔ بعض ایسے افراد جعل سازی کے ذریعے امریکا پہنچ کر معمولی ملازمت کرتے ہوئے اس کمپنی کو ماہانہ رقم ادا کرتے تھے تاکہ کمپنی ان کو ملازمت کی دستاویز فراہم کرتی رہے اور اگلے مراحل میں بھی معاونت جاری رکھے۔
نائب صدر جے ڈی وینز اور دیگر پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ ویزا سسٹم کی خامیوں اور جعل سازوں کی وجہ سے محدود صلاحیت کے حامل افراد اور مطلوبہ معیار پر پورا نہ اترنے والے ورکر امریکی مارکیٹ میں داخل ہوئے جن کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ورانہ اہلیت کے حامل امریکی اپنے حق سے محروم ہوگئے جب کہ جے ڈی وینز نے ان ملازمین کو جو مارکیٹ سے کم تنخواہ پر امریکا آئے تھے انہیں انڈینچرڈ سرونٹس سے تشبیہ دی۔ امریکی حکومت کے سخت فیصلوں نے امریکہ میں مقیم لاکھوں بھارتی پروفیشنلز اور ان کے اہل خانہ کے مستقل مستقبل اور گرین کارڈ کو غیر یقینی بنا دیا ہے اور وہ اب پریشان ہیں۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایچ ون بی ویزا پر عائد کردہ ایک لاکھ ڈالر کے سالانہ اضافی فیس/ ٹیکس کے فیصلے سے بھی سب سے زیادہ بھارتی متاثر ہورہے ہیں۔ اس بھاری بھرکم فیس نے ان کے لیے شدید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔
سالانہ تنخواہ کے مساوی فیس عائد ہونے سے کمپنیاں اب نئے غیر ملکی ورکروں کو ملازمت دینے سے گریز کر رہی ہیں۔ اب بڑی آئی ٹی آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کے ذریعے بھارت اور دیگر ملکوں سے نئے ورکروں کے امریکا آنے میں 90 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔
دوسری جانب امریکا کے محمکۂ افرادی قوّت نے کاروائیاں شروع کردی ہیں اور ویزا فراڈ کے خلاف باضابطہ تحقیقات کی جارہی ہیں۔ درجنوں بڑی کمپنیوں کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ وفاقی حکام کے مطابق اس کریک ڈاؤن کا مقصد ان اداروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہے جو غیر ملکی ملازمین کو کم معاوضے پر امریکا لا کر مقامی لیبر مارکیٹ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ادھر بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکی نائب صدر کی پریس کانفرنس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اپنے بیان میں ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینز نے ایچ بی ون ویزا کے تحت آنے والے غیر ملکی ورکروں کو بندۂ مزدور یا غیر ملکی انڈینچرڈ سرونٹ کہا ہے جو تضحیک آمیز الفاظ ہیں۔ اس صورت حال میں بھارتی شہریوں کی جانب سے رضاکارانہ واپسی بھی شروع ہوچکی ہے۔ جن بھارتیوں نے بینکوں سے قرضہ لے کر گھر اور گاڑیاں یا دیگر اشیاء خریدی تھیں وہ مشکل میں ہیں اور بھارت لوٹنے کی تیاری کررہے ہیں۔
ان حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ امریکی حکومت کے حالیہ اقدامات کے بعد بھارتی معیشت بھی متاثر ہوگی، کیوں کہ ترسیلاتِ زر کی شکل میں امریکا سے تقریباً 40 ارب ڈالر سالانہ بھارتی معیشت کا حصّہ بنتا رہا ہے۔ اس میں زیادہ حصّہ پروفیشنل ویزا اسکیم کے تحت امریکا میں ملازمت حاصل کرنے والے بھارتیوں کا تھا جو اب مشکل میں ہیں اور بھارت واپس آچکے ہیں یا ان کو جلد امریکا چھوڑنا پڑے گا۔
