معروف گلوکار ابرار الحق نے کہا ہے کہ کرن جوہر نے اپنی فلم میں میرا گانا ’نچ پنجابن‘ استعمال کرنے کی اجازت نہیں لی اور اپنی پوری فلم اس گانے پر رکھ کر بیچی۔
گلوکار ابرار الحق نے جیو پوڈ کاسٹ میں شرکت کی اور اپنی پیشہ وارانہ زندگی پر کھل کر گفتگو کی۔ ابرار الحق کا کہنا تھاکہ گانے ’بلو دے گھر‘ میں آج بھی پوٹیشنل ہے اور یہ بہت سارے لوگوں نے سنا ہی نہیں ہوگا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ کسی نے لندن میں’بلو دے گھر‘ اور ’نچ پنجابن‘ سمیت گانوں کے مالکانہ حقوق ہتھیا لیے ہیں اور بھارت کو بیچ دیے، یہ میں نے تو بیچے نہیں ہیں، پوچھنے پر بتایا کہ آپ اپنے دوست ہارون سے پوچھ لیں، ہم نے اس سے لیا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ انہوں نے جعلی دستاویزات اور میرے جعلی دستخط کرکے رکھے ہوئے ہیں، یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں باقی بھی فنکاروں کے ساتھ ایسا کر رکھا ہے۔
ابرارالحق نے مزید بتایاکہ ہارون نے ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ اسے جعلی دستاویزات بنانے والوں نے کہا کہ فلاں کمپنی گانا غلط نکال رہی ہے اور ہمیں لکھ کر دے دو یہ گانا واپس لینا ہے تو میں نے لکھ کر دیا۔
کرن جوہر کی فلم میں نچ پنجابن گیت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھاکہ کرن جوہر نے فلم میں گانا استعمال کرنے کی اجازت نہیں لی اور اپنی پوری فلم اس گانے پر رکھ کر بیچی ہے، یہ زیادتی کی ہے، اس معاملے پر مقدمہ کیا ہے اور کیس عدالت میں چل رہا ہے۔
خیال رہے کہ ابرار الحق نے 2001 میں گانا نچ پنجابن گایا تھا تاہم 2022 میں ریلیز ہونے والی بالی وڈ فلم ’جگ جگ جیو‘میں گیت شامل کیا گیا، اس فلم میں ورون دھون نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور یہ فلم کے پروڈیوسرز میں کرن جوہر بھی شامل ہیں۔


























Leave a Reply