سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گھریلو گیس سلنڈروں پر درج “A-26” یا “D-26” جیسے کوڈز 2026 کی میعادِ استعمال (ایکسپائری ڈیٹ) کو ظاہر کرتے ہیں، اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے سلنڈر زائد المیعاد، استعمال کے لیے غیر محفوظ اور پھٹنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔
31 مئی کو ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ نے ایک گرافک شیئر کیا جس میں لکھا تھا: “اگر آپ کو گھریلو گیس سلنڈر پر A-26 یا D-26 جیسے کوڈ نظر آئیں تو اس کا مطلب ہے کہ سلنڈر سال 2026 کے کسی مخصوص مہینے میں ایکسپائر ہو جائے گا۔ زائد المیعاد سلنڈر رکھنے سے کسی بھی وقت بڑا دھماکہ بھی ہو سکتا ہے۔”
پوسٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیادہ تر لوگ گیس سلنڈر بھروا لیتے ہیں لیکن سلنڈر کی باڈی یا اس پر درج کوڈ چیک نہیں کرتے، حالانکہ پوسٹ کے مطابق یہی کوڈ سلنڈر کی حفاظت اور استعمال کے حوالے سے سب سے اہم اشارہ ہوتا ہے۔
پوسٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیادہ تر لوگ گیس سلنڈر بھروا لیتے ہیں لیکن سلنڈر کی باڈی یا اس پر درج کوڈ چیک نہیں کرتے، حالانکہ پوسٹ کے مطابق یہی کوڈ سلنڈر کی حفاظت اور استعمال کے حوالے سے سب سے اہم اشارہ ہوتا ہے۔
سرکاری ادارے اوگرا (Oil and Gas Regulatory Authority) میں کارپوریٹ اور میڈیا امور کی جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر، عظمیٰ اشفاق نے جیو فیکٹ چیک کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ پاکستان میں ایل پی جی سلنڈرز پر A-26 یا D-26 جیسے نشانات یا کوڈ استعمال نہیں کیے جاتے۔
انہوں نے کہا، “تاہم، ایل پی جی سلنڈرز پر ابھری ہوئی تحریر (embossing) کی صورت میں مختلف معلومات درج ہوتی ہیں، جن میں تاریخِ تیاری، تیار کنندہ (manufacturer) کا نام، اگلے معائنے کی تاریخ، کمپنی کا نام، سیریل نمبر، بیچ نمبر، وزن اور پانی کی گنجائش شامل ہیں۔”
عظمیٰ اشفاق نے مزید بتایا کہ پاکستان میں تیار کیے جانے والے ایل پی جی سلنڈرز بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیارات کے مطابق بنائے جاتے ہیں، جن میں DOT 4B، DOT 4BW اور DOT 4BA specifications شامل ہیں اور ان معیارات کے تحت تیار کردہ سلنڈرز استعمال کے لیے محفوظ سمجھے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تصدیق شدہ (Certified) ایل پی جی سلنڈرز اگر درست طریقے سے استعمال کیے جائیں تو ان میں دھماکے کا خطرہ نہیں ہوتا، کیونکہ یہ بین الاقوامی معیارات کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں اور ان کی مقررہ وقفوں سے جانچ (Periodic Testing) بھی کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ، ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے بھی جیو فیکٹ چیک سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اوگرا سے منظور شدہ تمام ایل پی جی سلنڈر مینوفیکچررز بین الاقوامی معیارات پر عمل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “ان کے سلنڈر 20 سے زائد مراحل سے گزر کر تیار کیے جاتے ہیں اور بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہیں، عام حالات میں یہ اچانک نہیں پھٹتے اور طویل المدت استعمال کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ تاہم، ان کی وقتاً فوقتاً مرمتِ نو (refurbishment) اور جانچ ضروری ہے، جس میں پانچ سال بعد کی لازمی جانچ بھی شامل ہے۔”
عرفان کھوکھر نے مزید کہا کہ اوگرا کی منظوری کے بغیر تیار کیے گئے سلنڈر ممکن ہے حفاظتی معیارات پر پورا نہ اترتے ہوں اور صارفین کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔
فیصلہ: پاکستان میں ایل پی جی سلنڈرز پر درج A-26 یا D-26 جیسے نشانات میعاد ختم ہونے (ایکسپائری) کی تاریخ ظاہر کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کا مطلب یہ ہے کہ کوئی سلنڈر 2026 میں غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply