اپنا ہاتھ اوپر کریں اگر آپ مصروف صبح کے باعث ناشتہ نہیں کرتے یا دوپہر کو کھانے کا وقت مقرر نہیں یا سہ پہر میں بے وقت بھوک لگنے پر کچھ کھا لیتے ہیں یا رات کو کھانا دیر سے کھاتے ہیں؟
اگر ہاں تو ایسا صرف آپ نہیں بلکہ متعدد افراد کرتے ہیں اور موجودہ عہد میں یہ عام غذائی عادات بن چکی ہیں۔
مگر کھانے کا کوئی وقت نہ ہونا صرف بھوک پر ہی اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ دماغ پر بھی براہ راست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
دماغ ہمارے جسم کا سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والا عضو ہے جو کہ روزمرہ کی 20 فیصد توانائی کو خرچ کرتا ہے۔
غذا دماغ کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے اور ایندھن کی فراہمی روزانہ متاثر ہونے سے دماغی صحت متثر ہوتی ہے۔
درحقیقت اس کے نتیجے میں ڈپریشن سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل آف ایفیکٹیو ڈس آرڈرز میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ کھانے کا وقت دماغی صحت کے حوالے سے بہت زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ غذا کے استعمال کا وقت نہ ہونے سے ڈپریشن کی علامات کا سامنا ہونے کا امکان نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 21 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا اور 2014 سے 2022 کے دوران ان کی غذائی عادات کا ڈیٹا سرویز کے ذریعے حاصل کیا گیا۔
تحقیق میں دیکھا گیا تھا کہ کھانے کے مستقل اوقات کس حد تک دماغی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
اس مقصد کے لیے غذائی عادات اور دماغی صحت سمیت عمر، جنس، آمدنی، تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمیوں، جسمانی وزن اور دیگر عناصر کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ غذائی عادات میں کوئی معمول نہ ہونے سے ڈپریشن کی علامات سے متاثر ہونے کا خطرہ 55 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
یہ خطرہ مردوں، تمباکو نوشی کے عادی افراد اور رات گئے کھانا کھانے والوں میں زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ اکثر ناشتہ نہ کرنے اور ڈپریشن کی علامات سے متاثر ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے۔
تحقیق کے مطابق پھلوں، سبزیوں، دالوں، پھلیوں، دودھ یا اسے بنی مصنوعات اور پروٹین سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے کھانے کے مستقل اوقات نہ ہونے سے پہنچنے والے نقصان سے کسی حد تک تحفظ ملتا ہے۔
تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کھانے کا وقت کیا ہونا چاہیے، مگر یہ ضرور کہا گیا کہ ان اوقات میں تسلسل ہونا ضروری ہے۔


























Leave a Reply