اگر آپ ہائی بلڈ پریشر جیسے خاموش قاتل مرض سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو دالوں اور بیجوں کے زیادہ استعمال کو عادت بنالیں۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل بی ایم جی نیوٹریشن پریونٹیشن اینڈ ہیلتھ میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ بیجوں، دالوں اور سویا کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد بیجوں، دالوں، چنے اور سویا ملک کا استعمال کرتے ہیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ 30 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق میں ماضی میں ہونے والی 12 تحقیقی رپورٹس اور 10 تحقیقی مقالوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
مختلف ممالک میں ہونے والے اس تحقیقی کام میں مجموعی طور پر 88 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے متعدد ہائی بلڈ پریشر کے شکار تھے۔
ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد محققین نے بیجوں اور دالوں کے استعمال اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق کو دریافت کیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد بیجوں اور دالوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ 16 فیصد تک کم ہوتا ہے جبکہ سویا کے استعمال سے یہ خطرہ 19 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
یہ اثر ان افراد میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے جو روزانہ 17 گرام بیجوں یا دالوں کا استعمال کرتے ہیں، ان میں اس خاموش قاتل مرض کا خطرہ 30 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ 100 گرام بیج یا سویا کی مقدار 5 یا 6 کھانے کے چمچ مٹر، دال، چنوں یا سویا بین کے برابر ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شواہد سے نتائج کی تصدیق ہوتی ہے کیونکہ ان غذاؤں میں پوٹاشیم، میگنیشم اور غذائی فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور یہ سب بلڈ پریشر کو صحت مند سطح میں رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کسی حد تک محدود ہیں، مگر نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ یہ غذائی ہائی بلڈ پریشر جیسے مرض سے بچانے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ ہائی بلڈ پریشر کا ایک جان لیوا عنصر یہ ہوتا ہے کہ اکثر افراد کو اس سے لاعلم رہتے ہیں کہ وہ اس مرض کے شکار ہوچکے ہیں۔
درحقیقت ہائی بلڈ پریشر کے شکار لگ بھگ ایک تہائی افراد کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس بیماری سے متاثر ہیں۔


























Leave a Reply