جیو فلمز کے بینر تلے ریلیز ہونے والی فلم زومبیڈ اس عید الاضحیٰ پر سنیما گھروں کی زینت بنےگی۔
فلم میں سپر اسٹار فہد مصطفیٰ ولید جب کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ اداکارہ مہوش حیات زارا کا کردار کریں گی۔ فلم کے بارے میں جیو ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ادکاروں نے بتایا کہ زومبیڈ پاکستان کی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے۔
زومبیز کے موضوع پر اس سے قبل بھی فلمیں ریلیز کی جاچکی ہیں۔
سال 2007 میں ہارر فلم ‘ذبح خانہ’ اور 2021 میں ہارر کامیڈی فلم ‘ادھم پٹاخ’ میں بھی یہ خطرناک مخلوق سنیما گھروں میں دیکھی جاچکی ہے۔
ہدایت کار نبیل قریشی کی فلم زومبیڈ میں وی ایف ایکس اور سی جی آئی کا استعمال بھی کیا گیا ہے اور فلم کی کاسٹ کے مطابق یہ ہی بات زومبیڈ کو دوسری فلموں سے مختلف دکھاتی ہے۔
جیو ڈیجیٹل کو دیے خصوصی انٹرویو میں اداکار فہد مصطفیٰ اور مہوش حیات نے زومبیڈ کے موضوع اور اس کے منفرد ہونے کی وجہ بیان کی ہے۔
فہد مصطفیٰ نے کہا کہ جو فلمیں پہلے بنیں وہ بھی ہماری فلمیں ہیں، سب نے اچھی کوشش کی لیکن زومبیڈ ایک ہارر اور تھرلر فلم ہے۔‘میں یہ سمجھتا ہوں کہ زومبیز پر بننے والی فلم کو سنجیدہ ہونا چاہیے اگر لوگ زومبیز کو دیکھ کر ڈرے نہیں تو قصہ ختم ۔
انہوں نے کہا کہ جو فلمیں پہلے بنائی گئیں وہ محدود وسائل کے ساتھ بنائی گئیں، پہلے وی ایف ایکس یا سی جی آئی کا استعمال نہیں ہوتا تھا۔ ہماری فلم میں ان کا بھی استعمال کیا گیا ہے ۔۔ یہ ہی چیز فلم کو بڑا کرتی ہے۔
اداکار نے کہا کہ زومبیڈ باقی فلموں سے اس لیے بھی مختلف ہے کیونکہ اس میں مہوش حیات ہیں۔
اس پر اداکارہ مہوش حیات نے فہد مصطفیٰ کی بات کے جواب میں کہا کہ فہد کا فلم میں ہونا اسے باقی فلموں سے منفرد بناتا ہے۔
سوشل میڈیا پر فلم کو کراچی سے جوڑا جارہا تھا، البتہ اداکار فہد مصطفیٰ نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم پاکستان کی فلم ہے، ‘میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کہ فلم کی کہانی کراچی کی ہے یا نہیں کیونکہ اس کہانی میں آپ کو سندھی، پٹھان، پنجابی، پشتون اور بلوچی ہر قسم کا زومبی ملےگا۔
اداکار نے مزید کہا کہ کراچی وہ شہر ہے جہاں پاکستان سے آکر لوگ بستے ہیں، یہاں ثقافت کے رنگ دیکھے جاسکتے ہیں۔ کراچی خود ایک منی پاکستان ہے، اس لیے فلم میں بھی یہ ہی ثقافتی رنگ آپ کو نظر آئیں گے ۔


























Leave a Reply