انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ لاہور کی انتظامیہ نے عید الاضحیٰ سے قبل گلیوں میں قربانی کے جانور باندھنے پر پابندی لگا دی ہے اور سرکاری ادارہ ‘پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) اس پابندی کا نفاذ کروا رہا ہے۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔
دعویٰ
18 مئی کو ٹک ٹاک (TikTok) پر شیئر کی گئی ایک نیوز رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا: ”لاہور کی گلیوں میں قربانی کے جانور باندھنا غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے، پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی فورس کا غیر معمولی کریک ڈاؤن، شہر کے اصل مسائل حل کرنے کے بجائے، یہ قربانی کے جانوروں کے خلاف چھاپے مار رہی ہے۔
“ اس ویڈیو کلپ کو 26 لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے۔
دیگر لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ خبریں مستند ہیں۔
حقیقت
اس معاملے سے واقف حکام نے تصدیق کی ہے کہ عید الاضحیٰ سے قبل گلیوں میں قربانی کے جانور باندھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے، انتظامیہ نے واضح کیا کہ صرف مقررہ مویشی منڈیوں سے باہر جانوروں کی غیر قانونی خرید و فروخت ممنوع ہے۔
پنجاب کی صوبائی وزیرِ اطلاعات و ثقافت عظمیٰ زاہد بخاری نے جیو فیکٹ چیک سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، اپنے معمول کے انتظامات کے تحت، صرف سرکاری طور پر منظور شدہ مویشی منڈیوں سے باہر غیر قانونی سیل پوائنٹس (خرید و فروخت کے مقامات) قائم کرنے پر پابندی لگا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ”عام شہریوں کےلئے (اپنے گھروں کے قریب یا گلیوں میں) قربانی کے جانور باندھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔“
عظمیٰ بخاری نے اسلام پورہ کے ایک رہائشی کی طرف سے ایک دوسرے مقامی رہائشی کے خلاف دائر کی گئی شکایت کی کاپی بھی شیئر کی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایک گلی میں بھینسیں باندھی گئی ہیں اور دکانوں کے اسٹرکچر کے ذریعے عوامی جگہ پر تجاوزات کی گئی ہیں، جس کی وجہ سے پیدل چلنے والوں کے لیے رکاوٹ اور پریشانی پیدا ہو رہی ہے۔
وزیرِ اطلاعات کے مطابق، پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی نے اس شکایت کی جانچ پڑتال کی اور تجاوزات کی شکایت درست پائے جانے پر خلاف ورزی کرنے والے شخص کو گلی سے جانور ہٹانے کی ہدایت کی تھی۔
تاہم حکام نے واضح کیا کہ یہ کارروائی عوامی راستے میں رکاوٹ کی ایک مخصوص شکایت پر کی جانے والی ایک انفرادی کارروائی تھی اور اس کا قربانی کے جانور باندھنے پر شہر بھر میں کسی قسم کی پابندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز نے بھی جیو فیکٹ چیک سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ انتظامیہ نے صرف مقررہ مویشی منڈیوں سے باہر قربانی کے جانوروں کی غیر قانونی خرید و فروخت پر پابندی عائد کی ہے۔
فیصلہ: لاہور کی انتظامیہ نے عید الاضحیٰ سے قبل شہریوں کے گلیوں میں قربانی کے جانور باندھنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ صرف مقررہ مویشی منڈیوں سے باہر جانوروں کی غیر قانونی خرید و فروخت ممنوع ہے جبکہ قانونی کارروائیاں صرف عوامی راستے میں رکاوٹ یا تجاوزات سے متعلق مخصوص شکایات تک محدود ہیں۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔
اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply