کراچی میں اسٹریٹ کرائمز نے ایک نیا روپ اختیار کرلیا ہے، موٹر سائیکلوں کے بعد اب مہنگی گاڑیاں بھی جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں میں آگئی ہیں۔
کچھ وقت پہلے تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ اسٹریٹ کرائمز میں ملوث ملزمان زیادہ تر موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں اور واردات کے بعد باآسانی فرار ہو جاتے ہیں۔
تاہم جرائم کا یہ انداز آج بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، بلکہ صرف اس کے طریقہ واردات میں تبدیلی آ رہی ہے تاکہ شک کی نظر بھی دھوکہ کھا جائے۔
حالیہ دنوں رپورٹ ہونے والے کیسز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جرائم پیشہ گروہ اب موٹر سائیکلوں کی جگہ مہنگی گاڑیوں کا بھی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ گاڑیاں نہ صرف اسٹریٹ کرائمز میں استعمال ہو رہی ہیں بلکہ گھروں میں ڈکیتیوں کے لیے بھی استعمال کی گئی ہیں، اور واردات کے بعد ملزمان آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں۔
پولیس نے جب مختلف کیسز کی تفتیش کی اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا تو حیران کن انکشاف ہوا کہ استعمال ہونے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس تبدیل تھیں، اور یہ گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئی تھیں۔
پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیجز اور تفتیش سے اہم شواہد مل رہے ہیں، تاہم شہر میں کیمروں کی کمی کے باعث کئی کیسز میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔کراچی میں اب بھی کئی اہم شاہراہیں ایسی ہیں جہاں کیمرے موجود ہی نہیں۔ خاص طور پر ضلع ساؤتھ میں جہاں وی وی آئی پیز، تاجر برادری اور سیاسی شخصیات بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں، وہاں بھی سرکاری سطح پر مطلوبہ تعداد میں کیمرے نصب نہیں کیےگئے۔
سال 2026 کے سی پی ایل سی اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں اب تک مختلف نوعیت کی 14 ہزار سے زائد وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں اسٹریٹ کرائم، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی چوری و چھیننا اور قتل جیسی سنگین وارداتیں شامل ہیں۔
ان میں سے صرف ضلع ساؤتھ میں 2300 سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔ اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی جرائم میں کچھ کمی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید تکنیکی سہولیات اور اضافی نفری فراہم کی جائے تو جرائم پر مزید مؤثر قابو پایا جا سکتا ہے۔


























Leave a Reply