وفاقی آئینی عدالت میں علی امین گنڈاپور کی بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بحالی کے لیے درخواست دائر کردی گئی۔
شیر افضل مروت کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفا ایک سزا یافتہ نااہل فردِ واحد کی ڈکٹیشن پر لیا گیا۔
درخواست گزار کے مطابق علی امین گنڈا پور کے استعفے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ، علی امین گنڈاپور کو ڈی نوٹیفائی کرنا غیرقانونی اور آئین سے متصادم ہے، غیر آئینی اقدامات کے نتیجے میں ہونے والے تمام سرکاری فیصلے منسوخ کیے جائیں۔
درخواست گزار کی جانب سے مطالبہ کیاگیاکہ سہیل آفریدی کی بطور وزیر اعلیٰ تقرری کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے اور علی امین گنڈاپور کو دوبارہ بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا بحال کیا جائے۔
دوسری جانب علی امین گنڈاپور کا عدالت میں دائر درخواست پر رد عمل بھی سامنے آگیا۔
علی امین گنڈاپور نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ میں نے اپنے لیڈر عمران خان کے حکم کے مطابق بلا کسی تاخیر کے اپنی وزارتِ اعلیٰ کے استعفے کی ہدایات پر عمل درآمد کروا کر اپنا فرض اداکیا۔
انہوں نے لکھا کہ کسی بھی طرح کے کیس یا عدالتی کارروائی کے ساتھ نہ میرا تعلق ہے اور نہ میرا کوئی عمل دخل ہے۔
علی امین گنڈاپور نے سوشل میڈیا پوسٹ میں استعفے کی کاپی بھی شیئر کردی۔

























Leave a Reply