سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے ڈرگ ریگولیٹر (ڈریپ) نے ڈاکٹروں کو برانڈ کے نام سے ادویات تجویز کرنے سے روک دیا ہے اور اب ان کے لیے صرف دوا کا جینرک نام (Generic name) یا کیمیائی فارمولا لکھنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ ان پوسٹس میں مزید یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اس قاعدے کی خلاف ورزی کرنے والے ڈاکٹروں کو جرمانے یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔
29 اپریل کو فیس بک صارف نے 30 سیکنڈز کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) نے ڈاکٹروں پر برانڈ کے نام لکھ کر ادویات تجویز کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ویڈیومیں کہا گیا ہے کہ ”ڈریپ کا یہ کہنا ہے کہ ڈاکٹر کا یہ اختیار ہے کہ ڈاکٹر صرف پرچی پہ دوائی کا فارمولا لکھ سکتا ہے، میڈیسن کا نام نہیں لکھ سکتا، میڈیسن کون سی دینی ہے یہ فارماسسٹ کا کام ہے۔“
ویڈیو میں مزید یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ جو ڈاکٹر برانڈ کے نام سے ادویات تجویز کرنا جاری رکھیں گے وہ غیر قانونی کام کر رہے ہوں گے اور انہیں سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے ایسا کوئی ہدایت نامہ جاری نہیں کیا جس میں ڈاکٹروں کو برانڈ کے نام سے ادویات تجویز کرنے سے روکا گیا ہو۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹرعبید اللہ ملک نے جیو فیکٹ چیک کو ٹیلی فون پر بتایا کہ وہ ایسی کسی بھی پابندی سے لاعلم ہیں۔
ڈاکٹرعبید اللہ ملک نے کہاکہ ”ڈاکٹروں کی میڈیکل پریکٹس ڈریپ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتی۔“ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ فی الحال ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو اس بات کا تعین کرے کہ ادویات برانڈ کے نام سے تجویز کرنی ہیں یا جینرک نام سے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”میڈیسن برانڈ سے بھی رجسٹر ہو سکتی ہے اور generic سے بھی، جب میڈیسن دونوں طریقوں سے رجسٹر ہو سکتی ہے تو ڈاکٹر بھی دونوں طریقوں سے لکھ سکتا ہے۔“
عبید اللہ ملک نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈریپ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ڈاکٹروں کو یہ ہدایت دے سکے کہ نسخہ کس طرح لکھا جانا چاہیے۔
پنجاب کی وزارتِ صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیو فیکٹ چیک کو یہ بھی بتایا کہ فی الحال ایسی کوئی قانون سازی موجود نہیں ہے جو ڈاکٹروں کے لیے صرف جینرک ادویات (فارمولا) تجویز کرنا لازمی قرار دیتی ہو۔
اس کے علاوہ، پنجاب کے وزیر صحت کے ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا، آغا احتشام نے بھی میسجز کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی کہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
فیصلہ: ڈریپ نے ڈاکٹروں کو برانڈ کے نام سے ادویات تجویز کرنے سے منع نہیں کیا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے پر کسی قسم کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ ڈریپ اور پنجاب کے محکمہ صحت دونوں کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایسا کوئی قانون یا ہدایت نامہ موجود نہیں ہے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply