گردوں میں پتھری بہت تکلیف دہ مرض ہوتا ہے اور ایک تخمینے کے مطابق صرف امریکا میں ہی ہر 11 میں سے ایک فرد کو اپنی زندگی میں کسی موقع پر اس کا سامنا ہوتا ہے۔
عام طور پر گردوں میں پتھری کا سامنا 40 سے 60 سال کی عمر کے درمیان افراد کو ہوتا ہے۔
مگر ہر عمر کے افراد اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
زیادہ تر جن افراد کو ایک بار گردوں میں پتھری کا سامنا ہوتا ہے، انہیں مستقبل میں بھی کم از کم ایک بار ضرور اس عارضے کا علاج کرانا پڑتا ہے۔
ایسا اکثر کہا جاتا ہے کہ زیادہ پانی پینے سے گردوں کے اس تکلیف دہ مرض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔
مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ پانی پینے سے بھی گردوں کی پتھری سے بچنے میں مدد نہیں ملتی۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
ڈیوک یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی اس تحقیق میں ایک کلینیکل ٹرائل کیا گیا جس میں 1658 افراد کو شامل کیا گیا۔
محققین نے بتایا کہ ٹرائل کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ زیادہ پانی پینے کی اہمیت کے باوجود گردوں کی پتھری کو دوبارہ ابھرنے سے روکنا مشکل ہوتا ہے۔
اس تحقیق میں شامل افراد کو مناسب مقدار میں سیال کے استعمال کے پروگرام کا حصہ بنایا گیا اور پانی کی بوتلوں پر سنسرز کی مدد سے جانچا گیا کہ وہ کتنا پانی پیتے ہیں۔
ہر فرد کے پانی پینے کی مقدار کو ٹریک کی گیا اور انہیں روزانہ ڈھائی لیٹر پانی پینے کی ہدایت کی گئی۔۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ زیادہ پانی پینے اور زیادہ پیشاب کے اخراج کے باوجود گردوں کی پتھری کے خطرے میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت ہوا کہ لوگوں کے لیے روزانہ زیادہ پانی پینا بھی مشکل ہوتا ہے جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ کسی فرد کے لیے کتنا پانی پینا مناسب ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل دی لانسیٹ میں شائع ہوئے۔
گردوں میں پتھری سے کیا مراد ہے؟
بنیادی طور پر یہ پتھر نہیں بلکہ منرلز اور دیگر نامیاتی مرکبات کے جمع ہونے سے بننے والے بڑے ٹکڑے ہوتے ہیں۔
کیلشیئم آکسلیٹ کی پتھری سب سے عام ہوتی ہے جس کے بعد کیلشیئم فاسفیٹ اور یورک ایسڈ کا نمبر آتا ہے۔
جب پیشاب میں یہ منرلز کافی زیادہ تعداد میں ہو جاتے ہیں اور مناسب سیال موجود نہیں ہوتا تو وہ سخت پتھر جیسی شکل اختیار کرلیتے ہیں جن کا حجم ریت کے ایک دانے سے لے کر ایک گولف بال جتنا ہوسکتا ہے۔
یہ سخت ٹکڑے پیشاب کی نالی میں سفر کرتے ہوئے پیشاب کے بہاؤ کو بلاک کر سکتے ہیں جس سے گردوں کی سوجن کا خطرہ بڑھتا ہے۔


























Leave a Reply