اگر کسی فرد کے دل کی دھڑکن تھم جائے اور جلد بحال نہ ہو تو اسے مردہ قرار دیا جاتا ہے۔
مگر چین میں ایک شخص کرشماتی طور پر حرکت قلب تھم جانے کے 40 گھنٹے بعد دوبارہ زندہ ہوگیا۔
یہ واقعہ چین کے صوبے ژجیانگ میں سامنے آیا۔
ہاسپٹل آف ژجیانگ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کے ایمرجنسی ڈاکٹر لیو شیاؤ نے اس کیس کے بارے میں سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بتایا۔
انہوں نے بتایا کہ 40 سالہ شخص کو کارڈک اریسٹ (حرکت قبل تھم جانے) کا سامنا ہوا تھا اور برقی جھٹکے دینے کے باوجود بھی دل کی دھڑکن بحال نہیں ہوئی۔
طبی ٹیم نے ایکسٹراکورپورئیل ممبرین آکسیجینیشن نامی مشین کو استعمال کیا جو مصنوعی دل اور پھیپھڑوں کا کام کرتے ہوئے خون میں آکسیجن پمپ کرتی ہے، جس سے اس شخص کی زندگی بچانے میں مدد ملی حالانکہ اس کا دل لگ بھگ2 دن تک متحرک نہیں ہوا تھا۔
اس مشین سے عموماً ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو عارضی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
اس سے قبل بھی کارڈک اریسٹ کے شکار کچھ افراد کو گھنٹوں بعد اس مشین کی مدد سے زندگی کی جانب واپس لانے میں مدد ملی۔
2025 میں وسطی چین میں ایک 53 سالہ خاتون کی حرکت قلب کو اس مشین کی مدد سے 5 گھنٹوں بعد بحال کیا گیا۔
ڈاکٹر لیو نے بتایا کہ 40 سالہ مریض کے لیے مشین استعمال کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا ضروری تھا کہ بلڈ کلاٹ نہ بنے اور اس کے لیے عملے نے اس کی مانیٹرنگ بہت احتیاط سے کی۔
جب اس شخص کی حرکت قلب بحال ہوگئی تو بھی اسے مشین کے ساتھ 10 دن تک منسلک رکھ کر علاج کیا گیا۔
ڈاکٹر لیو نے بتایا کہ 20 دنوں کے بعد وہ مریض لگ بھگ مکمل صحتیاب ہوگیا اور خود چل کر اسپتال سے گھر گیا۔
ڈاکٹر نے اس شخص کے زندہ بچ جانے کو کرشمہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ مریض بہت خوش قسمت تھا۔


























Leave a Reply