ایران جنگ سے پیٹرو ڈالر نظام بحران کا شکار ہے اور مالیاتی توازن خطرے میں پڑگیا ہے۔
معروف امریکی جریدے کے مطابق پیٹرو ڈالر نظام کے دونوں پہیے رک گئے ہیں، بڑے بڑے مرکزی بینک مسلسل امریکی ٹریژری بانڈز فروخت کر رہے ہیں، جس سے ہولڈنگز 82 ارب ڈالر کم ہو گئیں اور منافع 3.9 سے بڑھ کر 4.4 فیصد ہوگیا ہے۔
تیل مہنگا اور کرنسیاں کمزور ہونے کے باعث ترکیے، بھارت اور دیگر ممالک ڈالر حاصل کرنے کے لیے امریکی بانڈز بیچ رہے ہیں۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش سے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات اور آمدن متاثر ہوئی ہے، وہ ڈالر میں سرمایہ کاری نہیں کر پارہے۔
پیٹرو ڈالر نظام کیا ہے؟
1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد پیدا ہونے والے تیل بحران کے بعد 1974 میں امریکا کا تیل برآمد کرنے والے ممالک سے معاہدہ ہوا جس کے تحت تیل کے بدلے ڈالر واپس امریکی معیشت میں آتے ہیں، جس سے ڈالر مضبوط کرنسی رہا ہے مگر اب یہ دائرہ ٹوٹ رہا ہے۔
یعنی دنیا کا کوئی بھی ملک جب تیل خریدنا چاہتا ہے تو اسے پہلے ڈالر حاصل کرنا پڑتا ہے، اس سے ڈالر کی مانگ ہمیشہ برقرار رہتی ہے، پھر تیل برآمد کرنے والے ممالک کو جو ڈالر ملتے ہیں ان میں سے بیشتر سے دوبارہ امریکا میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ اس سے امریکا کو سستا قرض بھی ملتا ہے اور اس کی معیشت بھی مستحکم رہتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اب عالمی تیل کی تجارت کا بڑا حصہ آہستہ آہستہ امریکی ڈالر کے بجائے دوسری کرنسیوں میں منتقل ہو رہا ہے، جن میں خاص طور پر چینی یوآن شامل ہے۔


























Leave a Reply