اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث جہاں خلیجی ممالک پاکستان انڈونیشیا وغیرہ متاثر ہوئے ہیں وہیں برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کو بھی بحرانی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ایران جنگ کے باعث 2022ء کے بعد پہلی مرتبہ لوگوں کو بلند ترین پیٹرول کی قیمتیں ادا کرنے پر مجبور ہونا پڑ گیا۔
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹریژری کے او بی آر واچ ڈاگ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر تیل اور گیس کی قیمتیں موجودہ سطح پر رہیں تو سال کے آخر تک افراط زر 3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
پروفیسر ڈیوڈ میلز نے خبردار کیا کہ اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ نہ رکا تو اثرات افراط زر پر براہ راست مرتب ہو ں گے۔
اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پیٹرول کی قیمت ایک ہفتے میں 3.5p اضافے سے 135.67p فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈیزل 6.9p سے 149.01p تک بڑھ گیا ہے۔
بیشتر علاقوں میں پیٹرول کی قلت بھی دیکھی گئی ہے، افراط زر جنوری سے 12 مہینوں میں 3 فیصد پر چل رہا تھا جو بینک آف انگلینڈ کے 2 فیصد ہدف سے کہیں زیادہ تھا۔
دوسری طرف امیدیں وابستہ کی جا رہی تھیں کہ رواں ماہ شرح سود میں کمی کی جائیگی جس سے رہن ادا کرنے والوں پر دباؤ کم ہوگا مگر مشرق وسطیٰ کے بحران نے ان امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے


























Leave a Reply