ایران کے جوہری پروگرام اور حالیہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواز پر عالمی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی، متعدد ایٹمی ماہرین نے امریکی دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے تہران ریسرچ ری ایکٹر کو ایران پر حملوں کی ایک اہم وجہ قرار دیا تھا، تاہم عالمی جوہری ماہرین اس دعوے کو غلط قرار دے رہے ہیں۔
عالمی جوہری ماہرین کے مطابق یہ ری ایکٹر تقریباً 60 برس پرانا ہے اور اسے 1967 میں امریکا نے خود ایٹمز فار پیس پروگرام کے تحت ایران کو فراہم کیا تھا۔
یہ ری ایکٹر بنیادی طور پر سویلین مقاصد، طبی تحقیق اور ریڈیو آئسوٹوپس کی تیاری کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ کہ اس نوعیت کے تحقیقی ری ایکٹر یورینیم افزودہ کرنے یا براہِ راست ایٹم بم بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ایران اس ری ایکٹر میں 20 فیصد تک افزودہ یورینیم ذخیرہ کر رہا تھا جو ممکنہ طور پر ایٹمی ہتھیار سازی میں استعمال ہو سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ تقریباً 460 کلوگرام یورینیم بھی موجود تھا۔
تاہم عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ایران کے منظم انداز میں ایٹم بم بنانے کے شواہد موجود نہیں۔
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے پہلے جینیوا میں جو امن مذاکرات ہو رہے تھے، اُس دوران ایران نے ایک مجوزہ معاہدے کے تحت افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنے کی پیشکش بھی کی تھی، جبکہ رپورٹس کے مطابق حملوں سے صرف 36گھنٹے پہلے ایک ممکنہ جوہری معاہدہ بھی زیر غور تھا۔
ماہرین کے مطابق جوہری معاملات پیچیدہ ہوتے ہیں، اُن کے حل کے لیے تکنیکی مہارت اور طویل سفارتی مذاکرات ضروری ہیں، اس لیے ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے میں فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی راستہ زیادہ مؤثر ثابت ہوتا۔


























Leave a Reply