ایسا بیشتر افراد کے ساتھ ہوتا ہے کہ جب وہ سو کر اٹھتے ہیں تو تکیے اور منہ پر رال جمی ہوئی ہوتی ہے۔
ویسے تو بیشتر افراد اس سے شرمندگی محسوس کرتے ہیں مگر ماہرین کے مطابق یہ کوئی خاص بات نہیں، اگر ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے۔
امریکا کے نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی فینبرگ اسکول آف میڈیسن کے طبی ماہر ڈاکٹر لندن ڈیوک نے کہا کہ رال ٹپکنے کا سامنا ہر فرد کو ہی کبھی نہ کبھی ہوتا ہے، جیسے سونے سے قبل بہت زیادہ پانی پینے یا کسی تنگ جگہ پر سونے سے۔
انہوں نے کہا کہ مگر جب یہ معمول بن جائے، یعنی ہر صبح جاگنے پر اس کے آثار نظر آئے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے، خاص طور پر اگر ایسا اچانک ہونا شروع ہوا ہے، یہ کسی سنگین نیند کے عارضے یا دماغی مسئلے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔
رال ٹپکنے کی وجوہات
ایسی متعدد وجوہات موجود ہیں جو اس مسئلے کی وجہ بنتی ہیں، کچھ زیادہ سنگین ہوتی ہیں جبکہ کچھ زیادہ سنگین نہیں ہوتیں۔
ان میں سے ایک وجہ تو سلیپ اپنیا ہے جو کہ کافی سنگین عارضہ ہے۔
سلیپ اپنیا کے شکار افراد کی سانس نیند کے دوران بار بار رکتی ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔
تو جب سانس رکتی ہے اور متاثر فرد مزید ہوا کھینچنے کے لیے منہ کھول کر سانس لیتا ہے تو رال بہنے لگتی ہے۔
رال ٹپکنے کی ایک اور وجہ منہ سے سانس لینا ہے۔
کچھ افراد پیدائشی طور پر نیند کے دوران منہ سے سانس لینے کے عادی ہوتے ہیں اور منہ کھول کر سانس لینے سے رال بہنے لگتی ہے۔
ایک اور اہم وجہ سینے میں جلن ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں بھی رال بہنے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔
موسمی الرجی، نزلہ زکام، گلا خراب ہونے، ٹانسلز اور نتھنے کے انفیکشنز وغیرہ سے ناک کے ٹشوز ورم زدہ ہو جاتے ہیں اور ناک بند ہو جاتی ہے جس سے زیادہ رال بہنے لگتی ہے۔
دانتوں کے مسائل کے باعث بھی رال بہنے کا سامنا ہوتا ہے۔
ایک اور اہم وجہ پیٹ کے بل یا پہلو کے بل سونا ہے جس کے دوران منہ کا زاویہ ایسا ہوتا ہے کہ قدرتی طور پر اضافی لعاب دہن تکیے پر منتقل ہو جاتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔


























Leave a Reply