ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یکم مارچ کو کراچی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ہونے والے پرتشدد احتجاج کے تناظر میں، پاکستانی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے۔ اس ویڈیو میں مبینہ طور پر ایک گرفتار شخص کو یہ دعویٰ کرتے دیکھا جا سکتا کہ اسے اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے قونصل خانے کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی تھی، تاکہ سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
یہ دعویٰ سرے سے غلط ہے؛ درحقیقت یہ ویڈیو آن لائن دستیاب مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔
دعویٰ
3 مارچ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کے صارف نے ایک منٹ کی ویڈیو شیئر کی، جس میں مبینہ طور پر پولیس کی حراست میں موجود ایک شخص کو دیکھا جا سکتا ہے۔
اردو کیپشن میں لکھا گیا: ”کراچی امریکی قونصلیٹ فائرنگ میں ملوث پی ٹی آئی کا انتشاری نکلا،انتشار کا مقصد پاک امریکہ تعلقات خراب کرنے تھے اور عمران کو رہا کروانا تھا۔“
منسلک ویڈیو میں ایک شخص پولیس کی حراست میں نظر آ رہا ہے جو اپنی شناخت دانیال شاہ کے نام سے کرواتا ہے۔ یہ شخص کہتا ہے کہ اسے اور تین دیگر افراد کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے، تو شیعہ کمیونٹی کے ارکان کراچی میں احتجاجی مظاہرے کریں گے۔
اس مبینہ ویڈیو میں اسے یہ مزید کہتے ہوئے سنا جا سکتاہے: ”ہم سب کو یہ ٹارگٹ ملا تھا کہ ایران پر کوئی حملہ ہوا تو ہم کراچی میں مظاہرہ کریں گے، اس احتجاج میں اسلحے کے ساتھ شامل ہونا ہے اور عام لوگوں کے ساتھ امریکی سفارت خانے کے عملے کو بھی نشانہ بنانا ہے۔ ہم نے وہی کام کیا، تاکہ دنیا میں پیغام جائے کہ پاکستانی حکومت ایران کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور امریکی حملے کا جواز پیدا کیا جائے۔“
مذکورہ شخص یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ اس ہنگامہ آرائی کا مقصد حالات کو سازگار بنا کر عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔
اس آرٹیکل کے شائع ہونے تک مذکورہ ویڈیو کو 2 لاکھ 57 ہزار سے زائد بار دیکھا اور1 ہزار 500 سے زائد مرتبہ لائک کیا جا چکا تھا، جبکہ اسے تقریباً 2ہزار 500 دفعہ ری پوسٹ کیا گیا۔
یہی ویڈیو فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور ایکس (ٹوئٹر) پر بھی شیئر کی گئی، جس کے لنکس یہاں، یہاں اور یہاں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔
حقیقت
انٹرنیٹ پر موجود یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) کے ٹولز کے ذریعے تیار کی گئی ہے؛ کراچی پولیس نے زیرِ حراست مظاہرین میں سے کسی کی بھی ایسی کوئی ویڈیو جاری نہیں کی ہے۔
کراچی کے ساؤتھ زون کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (DIG) سید اسد رضا نے جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ یہ ویڈیو ”جعلی“ ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ “ایسا کوئی شخص مقامی پولیس کی جانب سے نہ حراست میں لیا گیا ہے اور نہ ہی اس سے تفتیش کی گئی ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی فرد نے ایسا کوئی بیان بھی جاری نہیں کیا ہے۔
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس کراچی کے پبلک ریلیشنز آفیسر (PRO) سید ریحان شاہد نے بھی جیو فیکٹ چیک کو میسجز کے ذریعے تصدیق کی کہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی گئی ہے۔
مزید برآں، جیو فیکٹ چیک نے یونیورسٹی ایٹ بفیلو کے تیار کردہ ٹول ڈیپ فیک او میٹر (DeepFake O Meter) کا استعمال کیا، جس کے تجزیے کے مطابق اس ویڈیو کلپ کے مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار شدہ ہونے کے امکانات 100فیصد ہیں۔
فیصلہ: انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی وہ ویڈیو، جس میں کراچی کے مبینہ طور پر ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ اسے پی ٹی آئی نے امریکی قونصل خانے پر حملے کی ہدایت دی تھی، مکمل طور پر من گھڑت اور جعلی ہے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply