امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کی ذمہ داری مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف، اپنے داماد جیراڈ کشنر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ پر ڈال دی۔
فلوریڈا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نےکہا کہ ایران کے بارے میں صورت حال بہت تیزی سے پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچی، ان کے خیال میں اسٹیوو وٹکوف، جیراڈکشنر اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی گفتگو سے انہیں ایسا لگا کہ ایران امریکا پر حملہ کرنے جارہا ہے۔
ٹرمپ نےکہا کہ کہ میرے خیال میں اگر ہم ایران پر حملہ نہ کرتے تو ایران ہم پر حملہ کردیتا، مجھے 100فیصدیقین تھاکہ ایران ایک ہفتےمیں حملہ کردیتا۔
ایرانی ڈرونز کامقابلہ کرنےکیلئے ہمارے پاس سستے انٹرسپٹر ہیں، ٹرمپ
امریکی صدر نے دعویٰ کیاکہ ایران کے 51 بحری جنگی جہاز تباہ کردیے ہیں، ایران کے ڈرون حملوں میں 83 فیصدکمی آئی ہے، ایران کی ڈرون مینوفیکچرنگ کو نشانہ بنایا شروع کردیا ہے، ایرانی ڈرونز کامقابلہ کرنےکے لیے ہمارے پاس سستے انٹرسپٹر ہیں، ہم اپنے ابتدائی ٹائم لائن سے بہت آگے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نےآئل سپلائی کونقصان پہنچایا تو ہم سخت حملےکریں گے، ہم تیل سےمتعلق کچھ پابندیوں کو اٹھارہےہیں تاکہ قیمتیں کم ہوں، وقت آنے پر آبنائے ہرمز میں امریکی نیوی جہازوں کی حفاظت کرےگی، روسی صدر پیوٹن سےاچھی بات چیت ہوئی ہے۔
ایران جنگ جلد ختم ہونے والی ہے، ٹرمپ
ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا رواں ہفتےجنگ ہوگی؟ اس سوال پر ٹرمپ نےکہا نہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران میں بچیوں کے اسکول پر حملےکی تحقیقات کی جارہی ہیں، ایران کویہیں چھوڑ سکتے ہیں لیکن ہم مزید آگے بڑھنے والے ہیں۔
ایک اور بیان میں امریکی صدر نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کو بند رکھا تو اس پر موت، آگ اور قہر برسے گا اور ایران سے 20 گنا زیادہ سختی سے نمٹا جائےگا۔
امریکی میڈیا کو انٹرویو میں ایران سے بات چیت کرنے کے حوالے سے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہوسکتا ہےکہ ایران سے بات کروں لیکن یہ شرائط پر منحصر ہوگا، ساتھ ہی کہا ویسے اب ایران سے بات کرنے کی کچھ خاص ضرورت بھی نہیں رہی۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب پر ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ وہ امن سے رہ سکتے ہیں۔


























Leave a Reply