ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست رابطے منقطع ہو گئے ہیں جس کے بعد ممکنہ حملوں کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے درمیان رابطے معطل ہوچکے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری مظاہروں کے بعد سخت کریک ڈاؤن پر مداخلت کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔
گزشتہ روز ٹرمپ نے سوشل میڈیا پت جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے محب وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، اپنے اداروں پر قبضہ کرلیں، مدد پہنچ رہی ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ قاتلوں اور ظلم کرنے والوں کے نام یاد رکھیں، انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔
دوسری جانب تہران نے واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔






















Leave a Reply