(28 جولائی 2026): عمان نے آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق نیا منصوبہ ایران کو پیش کیا ہے جسے خلیجی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں خلیجی ذریعے اور ایک مغربی سفارت کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمان نے خلیجی ممالک کا حمایت یافتہ آبنائے ہرمز کے انتظام کیلیے نیا منصوبہ ایران کے سامنے پیش کیا ہے جس میں اس کے استعمال کیلیے رضاکارانہ فیس وصول کرنا بھی شامل ہے۔
ایک سینیئر ایرانی ذریعے نے بتایا کہ ایران نے ابھی تک عمانی منصوبے کا جواب نہیں دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اچھی بات چیت جاری ہے، لیکن انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر مذاکرات کے نتیجے میں کوئی حل نہ نکلا تو وہ فضائی حملے دوبارہ شروع کر دیں گے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کی تردید کی ہے۔
امریکا نے آبنائے پر ایران کے کنٹرول کو توڑنے کیلیے اس ماہ کے شروع میں فوجی حملوں کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کا انتظام عمان کے ساتھ مل کر چلانا چاہتا ہے اور اس کا استعمال کرنے والے بحری جہازوں سے سروس چارجز وصول کرنا چاہتا ہے۔
امریکا جنگ سے پہلے کی اس پوزیشن پر واپس جانا چاہتا ہے جب بحری جہاز بغیر کسی ادائیگی کے آزادانہ طور پر گزر سکتے تھے۔
معاملے سے باخبر خلیجی ذریعے اور مغربی سفارت کار نے روئٹرز کو بتایا کہ عمانی تجویز کے تحت ایران اکیلا کنٹرول نہیں کرے گا اور فیس رضاکارانہ ہوگی۔
یہ نظام ایشیا کی آبنائے ملاکا میں نافذ ایک نظام کی مانند ہوگا جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور جہازوں سے نیویگیشن، ماحولیاتی تحفظ اور تلاش و بچاؤ کے کاموں کی مالی اعانت کیلیے رضاکارانہ عطیات دینے کا کہتے ہیں۔
قطری وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق خلیجی تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ نے تنازع کی تازہ ترین پیشرفت پر تبادلہ خیال کیلیے آج ویڈیو کال کے ذریعے ملاقات کی جس میں آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آزادی اور حفاظت سے متعلق امور پر تعاون کو تیز کرنے کے طریقے بھی شامل تھے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ اس منصوبے کو ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے جس کے تحت منجمد ایرانی اثاثوں سے جہازوں کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کیا جانا تھا۔
ایران نے کہا کہ جو بھی ملک یا کمپنی اس طرح کی ادائیگیوں کو قبول کرے گی اسے ایرانی مسلح افواج کی طرف سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
