Preloader

دبئی (6 ستمبر 2026): متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں پیک شدہ غذائی مصنوعات میں نمک اور چینی اور چکنائی کی مقررہ مقدار پوری نہ ہونے پر کمپنیوں پر لاکھوں درہم جرمانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

یو اے ای حکومت نے کھانے پینے کی پیک شدہ اشیاء میں نمک، چینی اور چکنائی کی مقدار محدود کرنے کے نئے ضوابط نافذ کرنا شروع کردیے ہیں۔

پیک شدہ غذاؤں میں نمک، چینی اور چکنائی کی مقررہ حد سے تجاوز پر 5 لاکھ درہم تک جرمانہ، خلاف ورزی پر ادارہ 6 ماہ تک بند بھی کیا جاسکے گا یا لائسنس منسوخ کرنے کی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

عرب ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق متعلقہ وزارت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نئے قواعد و ضوابط کا بنیادی مقصد عوام کو غیر صحت بخش خوراک کے مضر اثرات سے بچاتے ہوئے مختلف بیماریوں سمیت غیر متعدی امراض کی روک تھام کرنا ہے۔

مذکورہ نئے قوانین مقامی طور پر تیار یا بیرون ملک سے درآمد کی جانے والی مخصوص پیک شدہ غذاؤں پر لاگو ہوں گے، جن میں فری زونز میں کام کرنے والی کمپنیوں کی مصنوعات بھی شامل ہیں۔

ان قواعد کا اطلاق خوراک کی تیاری، پروسیسنگ، پیکیجنگ، نقل و حمل، درآمد، ذخیرہ، تقسیم، نمائش اور فروخت سمیت پوری سپلائی چین پر ہوگا۔

غذائیں دو گروپوں میں تقسیم

نئے ضوابط کے تحت غذاؤں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور مقررہ حدود مرحلہ وار مزید کم کی جائیں گی۔

پہلے گروپ میں روٹی، دودھ کے میٹھے مشروبات، ذائقہ دار دہی اور لَبَن، نمکین کریکرز، نمکین گری دار میوے اور بیج، پریٹزلز اور مختلف اقسام کے چپس شامل ہیں۔

دوسرے گروپ میں پراسیسڈ پنیر شامل ہے۔ اسپریڈ ایبل پراسیسڈ پنیر میں سوڈیم کی حد پہلے مرحلے میں 864 ملی گرام سے کم کرکے 720 ملی گرام جبکہ دیگر پراسیسڈ پنیر میں یہ حد 1200 سے کم کرکے 1000 ملی گرام مقرر کی جائے گی۔

پہلے گروپ کی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنیوں کو قرارداد کے مؤثر ہونے کے بعد ابتدائی حدود پوری کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 9 ماہ دیے گئے ہیں۔ قواعد کی خلاف ورزی پر 5 ہزار سے 5 لاکھ درہم تک جرمانہ۔ متعلقہ حکام ادارے کو 6 ماہ تک بند کرنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں جس میں توسیع ممکن ہوگی، جبکہ لائسنس یا منظوری منسوخ کرنے کی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔

یو اے ای میں پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ، چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *