Preloader

ٹریفک پولیس کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟ اس کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی ہے۔

ٹریفک پولیس گاڑیوں کی آمدورفت کو منظم کرنے، ٹریفک کے رش کو سنبھالنے اور اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے کہ ڈرائیور سڑک پر حفاظت کے اصولوں کی پابندی کریں، چونکہ ان کے فرائض کی انجام دہی کے لیے انہیں اکثر طویل وقت تک باہر، خاص طور پر مصروف چوراہوں پر رہنا پڑتا ہے اس لیے ان کی وردیاں ایسی بنائی جاتی ہیں جو عملی ہونے کے ساتھ ساتھ آسانی سے پہچانی بھی جا سکیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عام طور پر گردش کرنے والی معلومات کے مطابق سفید وردی کے استعمال کی وجوہات میں دور سے نمایاں نظر آنا اور گرمی سے بچاؤ شامل ہیں تاہم کوئی ایک ایسی سرکاری وضاحت موجود نہیں ہے جو تمام شہروں کے ٹریفک پولیس محکموں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہو۔

ایک عام وجہ ‘نمایاں نظر آنا’  ہے، ٹریفک اہلکار اکثر مصروف چوراہوں، مصروف سڑکوں اور ایسی جگہوں پر کام کرتے ہیں جہاں گاڑیوں کی آمدورفت بہت زیادہ ہوتی ہے اور ڈرائیوروں کے لیے افسران کو دور سے دیکھنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ نمایاں حیثیت خاص طور پر اس وقت مفید ثابت ہوتی ہے جب کوئی افسر ٹریفک کو ہدایت دے رہا ہو یا گاڑیوں کو رکنے یا چلنے کا اشارہ کر رہا ہو۔

ایک اور وضاحت کا تعلق گرم موسم سے ہے۔ ٹریفک پولیس اہلکاروں کو کئی گھنٹے باہر، بعض اوقات براہِ راست دھوپ میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ سفید رنگ سورج کی روشنی کو گہرے رنگوں کے مقابلے میں زیادہ منعکس  کرتا ہے جبکہ گہرے رنگ شمسی شعاعوں کو زیادہ جذب کرتے ہیں، نتیجتاً، ہلکے رنگ کے کپڑے براہِ راست دھوپ میں نسبتاً ٹھنڈک کا احساس دلا سکتے ہیں حالانکہ وردی میں اصل آرام کا انحصار کپڑے کی قسم، فٹنگ اور موسمی حالات جیسے عوامل پر بھی ہوتا ہے۔

لہٰذا ٹریفک پولیس کی سفید وردی کے استعمال پر بات کرتے ہوئے اکثر ان دو وجوہات کا ذکر کیا جاتا ہے: مصروف سڑکوں پر زیادہ نمایاں نظر آنا اور گرم موسم میں باہر کام کرنے کے دوران افسران کو نسبتاً آرام دہ محسوس کرنے میں مدد ملنا۔

اس کے باوجود وردی کے بارے میں درست اصول مختلف شہروں، محکموں اور پولیس فورسز کے درمیان مختلف ہو سکتے ہیں۔

نوٹ: اس مضمون میں دی گئی معلومات عام معلومات اور عام طور پر گردش کرنے والی وضاحتوں پر مبنی ہیں۔ ادارہ کا ان دعووں کی تصدیق نہیں کرتا ہے، قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی معلومات پر انحصار کرنے سے پہلے سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق کرلیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *