وفاقی آئینی عدالت نے پلاٹوں اور غیر منقولہ جائیدادوں پر انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 7 ای کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدیا، اس سیکشن کے تحت ایف بی آر کے تمام اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت کےچیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں قائم بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں فنانس ایکٹ 2022 کے ذریعے شامل کیا گیا سیکشن 7 ای آئین کے مطابق نہیں، اس لیے اسے ابتدا ہی سے کالعدم تصور کیا جائے گا۔
عدالت نے قرار دیا کہ کسی جائیداد یا پلاٹ کی محض ملکیت کو آمدنی قرار دیکر اس پر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ سیکشن ای 7 کے تحت ایف بی آر اور کمشنر ان لینڈ ریونیو کے تمام نوٹسز، کارروائیاں اور اقدامات غیر قانونی اور بلا جواز ہیں لہٰذا انہیں کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
اس فیصلے کو جائیداد مالکان اور ٹیکس دہندگان کے لیے بڑا ریلیف قرار دیا جا رہا ہے جبکہ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ٹیکس قوانین اور آئینی حدود کے تعین کے حوالے سے ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔
سیکشن ای 7 کے تحت جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کا 5 فیصد فرضی آمدن تصور کر کے اس پر 20 فیصد ٹیکس عائد کیا جاتا تھا جو عملی طور پر جائیداد کی کل مالیت کا ایک فیصد بنتا تھا۔


























Leave a Reply