کیمبرج انٹرنیشنل ایجوکیشن نے اے ایس لیول ریاضی کے ایک پرچے کے قبل از وقت لیک ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے متعلقہ امتحانی جزو کو منسوخ کرنے اور متاثرہ طلبہ سے دوبارہ امتحان لینے کا اعلان کردیا ہے۔
کیمبرج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اے ایس لیول ریاضی کا پرچہ 9709/12، جو 29 اپریل 2026 کو ایڈمنسٹریٹو زونز 3 اور 4 میں لیا گیا تھا، امتحان سے قبل غیر مجاز طور پر شیئر کیا گیا۔ ادارے نےکہا کہ تفصیلی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پرچے کے افشا کی نوعیت ایسی ہے کہ اسے حتمی نتائج کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ پرچہ اب طلبہ کے گریڈز کے تعین کے لیے استعمال نہیں ہوگا اور اس کے بجائے متاثرہ امیدواروں سے نیا امتحان لیا جائےگا۔
کیمبرج نے اس صورتحال پر طلبہ، والدین اور اسکولوں سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئےکہا کہ طلبہ نے امتحانات کی تیاری کے لیے سخت محنت کی اور ادارہ منصفانہ نتائج کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
کیمبرج کے مطابق امتحانی پرچےکی چوری اور غیر مجاز شیئرنگ سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر ذمہ دار افراد کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ امتحانی مواد شیئر کرنے یا اس کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں کیمبرج کی تمام اہلیتوں سے مستقل نااہلی بھی شامل ہوسکتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امتحانی بورڈز کو اکثر پرچوں کے لیک ہونے سے متعلق اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں، جن میں اکثریت غلط ثابت ہوتی ہے، تاہم اس معاملے میں تحقیقات کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ متاثرہ پرچے کو نتائج کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
کیمبرج نے اعلان کیا کہ ریاضی 9709/12 کا متبادل امتحان 9 جون 2026 کو جون سیریز کے شیڈول کے تحت لیا جائےگا۔ ادارے کے مطابق طلبہ یا اسکولوں سے اس دوبارہ امتحان کی کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جائے گی جب کہ نتائج کے اجراء کی تاریخ 11 اگست 2026 ہی برقرار رہےگی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 15 مئی تک اسکولوں کو تفصیلی ہدایات فراہم کردی جائیں گی جن میں نئے پرچے کے انعقاد، سوالیہ پرچوں کی ترسیل، جون 2026 سیریز سے دستبرداری اور نومبر 2026 امتحانات میں اندراج سے متعلق معلومات شامل ہوں گی۔
کیمبرج نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے باقی امتحانات پر توجہ برقرار رکھیں اور یقین دہانی کرائی کہ امتحانی نظام کی شفافیت اور طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔


























Leave a Reply