پاکستان کی میڈیا نمائندہ تنظیموں، پی بی اے، اے پی این ایس، سی پی این ای ،ایمنڈ اور پی ایف یو جے پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے عالمی یوم صحافت کے موقع پر دنیا بھر میں آزادیٔ اظہارِ رائے اور صحافیوں کی سلامتی کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق گزشتہ سال صحافت کے لیے انتہائی مشکل اور چیلنجنگ ثابت ہوا، جس دوران نہ صرف ترقی پذیر بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی میڈیا پر مختلف پابندیاں اور قدغنیں عائد کی جاتی رہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں بھی آزادیٔ اظہارِ رائے کی صورتحال تسلی بخش نہیں رہی۔ ملک میں نہ صرف متعدد صحافیوں کے قتل، ہراساں کیے جانے، جھوٹے مقدمات میں گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے بلکہ حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے میڈیا پر دباؤ میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ میڈیا اداروں کو مختلف سطحوں پر کنٹرول کرنے، من پسند ادارتی پالیسی کے اطلاق کے لیے دباؤ ڈالنے ، حکومتی اشتہارات کو ادارتی کنٹرول کے حصول، اعلانیہ وغیر اعلانیہ سنسرشپ کے ذریعے حق معلومات کو محدود کرنے اور اختلافی رائے رکھنے والے افراد کو آف ائیر کرنے کے تمام حربے استعمال کئیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صحافی اور میڈیا ادارےشدید دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی تنازعات، خصوصاً غزہ کی صورتحال کے دوران متعدد صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر مسلسل قدغنیں، جبکہ یوکرین، شام، یمن اور سوڈان جیسے شورش زدہ علاقوں میں صحافیوں کو شدید خطرات، حملوں اور جانی نقصانات کا سامنا رہا۔
بیان کے مطابق روس ،بھارت اور ایران جیسے ممالک میں بھی صحافیوں کو دباؤ، گرفتاریوں اور سنسرشپ کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی تناظر میں یورپی ممالک اور امریکا جو خود کو جمہوریت اور آزادیٔ اظہار کے بڑے علمبردار کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہاں بھی صحافت کو مختلف سطحوں پر چیلنجز درپیش ہیں۔ خاص طور پر ہنگری اور پولینڈ جیسے یورپی ممالک میں میڈیا کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کے حوالے سے پریشان کن صورتحال سامنے آئی ہے۔فرانس میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کشیدگی کے دوران صحافیوں کو دباؤ اور رکاوٹوں کا سامنا رہا ۔ امریکا میں اعلیٰ سطح پر، خصوصاً حکومتی اور صدارتی سطح پر میڈیا کے ساتھ جو رویہ سامنے آیا وہ ناقابل فہم اور آمرانہ سوچ کا عکاس ہے اور آزاد صحافت کے حوالے سے ایک غیر یقینی فضا پیدا کرتا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ تنازع زدہ خطوں میں متعدد مواقع پر صحافیوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا تاکہ وہ دنیا کو حقائق سے آگاہ نہ کر سکیں۔عالمی معاشی دباؤ اور میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات نے بھی صحافیوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملازمتوں کا عدم تحفظ، تنخواہوں میں کمی اور پیشہ ورانہ مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان تمام مشکلات کے باوجود ہم دنیا بھر کے صحافیوں اور میڈیا اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے حقائق کی فراہمی اور عوام کو باخبر رکھنے کے لیے بے مثال قربانیاں دیں اور اپنے پیشہ ورانہ فرائض دیانتداری سے انجام دیے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ آزادیٔ اظہارِ رائے، جمہوری اقدار اور عوام کے حقِ معلومات کے تحفظ کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود ہم معاشرے میں سچائی اور شفافیت کے فروغ کے لیے اپنا آئینی، قانونی اور جمہوری کردار ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتے رہیں گے۔


























Leave a Reply