کیا آپ کے خیال میں ایک رات نہ سونے سے صحت پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے؟
تو ایک نئی طبی تحقیق کے نتائج دنگ کر دیں گے۔
درحقیقت محض ایک رات کی خراب نیند سے انسانی دماغ پر ایسے اثرات مرتب ہوتے ہیں جو الزائمر امراض سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔
جرنل آئی بی آر او نیورو سائنس رپورٹس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ مختصر وقت کے لیے بے خوابی یا بے چینی سے ہی دماغ کو متعدد مسائل کا سامنا ہوتا ہے، جیسے دماغی خلیات کے درمیان تعلق کمزور ہو جاتا ہے، یادداشت کو متاثر کرنے والا ورم متحرک ہوتا ہے، زہریلا مواد اکٹھا ہونے لگتا ہے جبکہ نئے دماغی خلیات بننے کا عمل سست ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق میں گزشتہ 25 سال کے دوران نیند کی کمی، یادداشت اور دماغی افعال پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایک رات کی خراب نیند سے دماغ پر جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ الزائمر امراض سے آنے والی دماغی تنزلی سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ 18 سے 64 سال کی عمر کے تمام افراد کو روزانہ 7 سے 9 گھنٹوں کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ دماغی صحت کو مستحکم رکھا جاسکے۔
بچوں یا 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کو دماغی نشوونما کے مرحلے میں اس سے زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
تحقیق میں دریات کیا گیا کہ نیند کی کمی کے شکار افراد کو نئی چیزیں سیکھنے میں مسائل کا سامنا ہوتا ہے، وہ باتوں کو آسانی سے بھول جاتے ہیں، فرضی یادیں بڑھ جاتی ہیں، چڑچڑے پن اور فیصلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جبکہ جذباتی یادوں کا تجزیہ کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
الزائمر امراض کا ابھی کوئی علاج دریافت نہیں مگر تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر میں مختصر قیلولے اور رات کو زیادہ وقت تک نیند سے بیشتر ایسے مسائل کو ریورس کیا جاسکتا ہے۔
اس سے قبل نومبر 2023 میں کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک رات کی خراب نیند سے جسمانی توانائی میں ہی کمی نہیں آتی بلکہ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے کا خطرہ بھی نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔
خیال رہے کہ دل کی دھڑکن کی ترتیب بگڑنے سے ہارٹ فیلیئر، فالج اور دیگر امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ان افراد کی دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی کے مسئلے کا سامنا تھا اور یہ دیکھا گیا کہ ان کی نیند کا معیار کیسا ہے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ محض ایک رات کی خراب نیند سے دل کی دھڑکن کی ترتیب متاثر ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اگر نیند کی کمی کا سلسلہ کئی دن یا ہفتوں تک برقرار رہے تو یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج JACC: Clinical Electrophysiology میں شائع ہوئے۔

























Leave a Reply