مئی 2025 جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان مختصر لیکن بھرپور قوت سے لڑی جانے والی جنگ نے عالمی دنیا میں لازوال تاریخ لکھ دی۔
دنیا کی تاریخ میں 6 اور 7 مئی 2025 کی شب سے 10 مئی تک کے اہم دن شمار ہوں گے، جب مملکت پاکستان نے دنیا کی تاریخ میں یہ درج کرادیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سے ہی نہیں بلکہ جرات، مہارت اور انسان کی ذہنی صلاحیت اور فیصلہ سازی کی قوت سے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا جاتا ہے۔
سال 2025 کے جنگی معرکے میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، پاک فضائیہ کے سربراہ ائیرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف بھی تاریخ عالم کے اہم باب کا حصہ بن گئے۔
اس معرکے میں مجھے یہ دہرانے کی ضرورت نہیں کہ کیا ہواکیونکہ یہ میں اپنی گزشتہ سال تحریر میں لکھ چکا لیکن آئندہ نسلوں کو یہ بتانے کی ضرورت ضرور ہے کہ پاکستان نے اس جنگ میں طاقت کے توازن، جدید جنگی سازوسامان اور تیز ترین تبدیل ہوتی ٹیکنالوجی کے بہترین اور ذہانت سے استعمال کی سنہری تاریخ رقم کی۔
اس جنگ میں افواج پاکستان آرمی، فضائیہ اور بحریہ نے اپنی بہادری جرات اور ذہانت کا عالمی سطح پر لوہا منوایا اور ملکی قیادت اور عوام کی بے پناہ حمایت ان کا حوصلہ بن گئی، جنگ میں پاکستان نے خطے میں ہی نہیں دنیا میں اپنی قوت اورجغرافیائی اہمیت کو اجاگر کردیا، اس جنگ میں دنیا کے نئے جدید ترین فضائی، زمینی اور بحری ہتھیاروں کو کامیابی سے استعمال کیا گیا، جس میں پاکستان نے اپنے تیار کردہ جدید ہتھیار اور ٹیکنالوجی کو بھی متعارف کرایا اور کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
اس جنگ میں اقوام عالم نے بروقت فیصلہ سازی اور انسانی ذہانت سے مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے، مقابل پرکاری ضرب لگانے، جدید ٹیکنالوجی کو کامیابی سے استعمال کرنے کی حربی صلاحیت کا مشاہدہ بھی کیا گیا۔
اہم بات تھی کہ فضا میں لڑی جانیوالی جنگ میں 100 سے زائد جنگی جہازوں نے نظروں سے اوجھل لڑائی میں حصہ لیا۔
پاک بھارت جنگ میں تباہ کن جدید ہتھیاراور ٹیکنالوجی تیار کرنے والے ممالک کی جنگی مصنوعات کا تجربہ جنگی تاریخ میں بڑی مثال بن گیا اور جنگی افرادی قوت، جدید ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں کی عددی برتری اور بے پناہ وسائل کی بنیاد پرخطے پر اجارہ داری کے خوابوں کو بھی بھرپور ضرب لگ گئی۔
مختصر یہ کہ پاک و ہند کے اس معرکے میں بھارت نے اپنی جارحانہ کارروائی میں پاکستان پر حملہ کیا تو فرانس سے حاصل کردہ جدید رافیل طیارے، ایس یو 35 اور مگ 29، سپرسانک کروز براہموس اور فرانسیسی ساختہ کروز میزائل استعمال کیے، اس لڑائی میں بھارت نے اسرائیل کے تیار کردہ ہارپ ڈرونز سے پاکستان میں اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو بحری محاذ پر اپنے طیارہ بردار بحری جنگی جہاز وکرانت کو تیراکی کرانے کی کوشش بھی کرلی۔
چین کے تیار کردہ جدید جنگی طیارے جے ٹین سی، پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر کو اپنی فضائی حدود کے اندر استعمال کیا اور بھارتی حدود میں اس کے فرانسیسی رافیل اور روسی سخوئی سمیت 6 جدید طیاروں کو نظروں سے اوجھل رہتے ہوئے فضائی معرکے میں کامیابی سے نشانہ بنایا۔
چین کے طویل فاصلے کا ریڈار گائیڈڈ فضا سے فضا میں مارکرنے والا میزائل PL-15E، زمین سے زمین پر ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے والے فتح میزائل، جدید پاکستانی ڈرونز اور پاکستان کے تیار کردہ الیکٹرانک اور سائبر وار فئیر آلات دنیا کے لیے آزمودہ جدید ہتھیاروں کے طور پر سامنے آئے۔
پاکستان نے طویل، درمیانی اور مختصر فاصلے کے فضائی دفاعی نظام کو بھی استعمال کیا، زمینی ریڈاراوراواکس طیارے سے رہنمائی، جام کرنے کی سہولت اور اسپیس اور سائبرٹیکنالوجی کے مہارت سے استعمال نے فضائی جنگ کی تاریخ میں نیاباب رقم کیا۔
جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان اس مختصر جنگ میں بھارت کا ایشیا میں اجارہ داری کا خواب چکنا چور ہوگیا معاشی طور پر کمزور ملک پاکستان نے اپنے دفاع کو کمزور نہ ہونے دیا اور جرات بہادری اورسیاسی اور عسکری قیادت کے بروقت فیصلوں سے پوری دنیا میں پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کردیا۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

























Leave a Reply