مغربی افریقی ملک مالی میں طوارق باغیوں نے روسی افواج سے ملک سے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ازواد لبریشن فرنٹ (ایف ایل اے)کے ترجمان محمد المولود رمضان نے کہا ہے کہ ’ہمارا مقصد ہے کہ روس ازواد سمیت پورے مالی سے مستقل طور پر نکل جائے‘۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے آخر میں طوارق علیحدگی پسندوں نے ملک بھر میں بڑے حملے کیے جن میں دارالحکومت باماکو کے اطراف کے علاقے بھی شامل تھے۔
باغیوں نے شمالی صحرائی علاقے میں اہم شہر کِدال پر قبضہ کر لیا جبکہ شدید لڑائی کے دوران وزیر دفاع سادیو کامارا جاں بحق ہوگئے۔
ایف ایل اے کے ترجمان نے مزید کہا کہ ’ہمیں روس یا کسی اور ملک سے کوئی خاص مسئلہ نہیں، ہمارا مسئلہ باماکو کی حکومت سے ہے۔ روس نے ان لوگوں کی حمایت کی جنہوں نے سنگین جرائم اور قتل عام کیے‘۔
رپورٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی ہے کہ ماسکو کے زیر کنٹرول افریقہ کور کی پیراملٹری فورسز کو شمالی مالی کے شہر کِدال سے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ یہ ورسز مالی کی فوجی حکومت کی مدد کے لیے وہاں تعینات تھیں۔
باغیوں کے ترجمان نے مزید کہا کہ حکمران فوجی حکومت بالآخر گر جائے گی اور بتایا کہ باغیوں کا اگلا ہدف گاؤ، ٹمبکٹو اور میناکا پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔


























Leave a Reply