سوشل میڈیا صارفین بی بی سی اردو کی شائع کردہ ایک بلیک اینڈ وائٹ تصویر شیئر کر رہے ہیں، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی والدہ اور نانی دکھائی گئی ہیں، جنہوں نے پاکستان منتقل ہونے سے قبل مبینہ طور پر بھارت کے شہر امرتسر میں مقامی گلوکاروں/فنکاروں کے طور پر کام کیا تھا۔
یہ دعویٰ غلط ہے
دعویٰ
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک صارف نے یہ تصویر شیئر کی، جس میں دو خواتین کو ڈھول پکڑے کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے: ”اس پوسٹ کو لازمی شیئر کریں تاکہ لوگوں کو سمجھ آ جائے نون لیگ کی فیملی کا کاروبار کیا تھا۔“
پوسٹ میں مزید یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ تصویر میں موجود خواتین نواز شریف کی والدہ اور نانی ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ امرتسر کی گلیوں میں ڈھولکی بجایا کرتی تھیں۔
اس آرٹیکل کے شائع کیے جانے کے وقت تک پوسٹ کو 16 ہزار 401 بار دیکھا، 780 مرتبہ لائک اور 465 دفعہ ری پوسٹ کیا گیا۔
یہ تصویر اب بھی ایکس اور فیس بک پر گردش کر رہی ہے۔
حقیقت
وائرل ہونے والی یہ تصویر بی بی سی اردو کے ایک بالکل غیر متعلقہ مضمون سے لی گئی ہے اور اسے غلط طور پر شریف خاندان سے جوڑ دیا گیا ہے۔
جیو فیکٹ چیک نے ریورس امیج سرچ (reverse image search) کے ذریعے اس تصویر کی اصل کا کھوج لگایا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ تصویر یکم جون 2019ء کو بی بی سی اردو پر شائع ہونے والے ایک مضمون سے لی گئی ہے، جسے صحافی سوتک بسواس نے تحریر کیا تھا۔ اس رپورٹ میں دراصل جنوبی ایشیا میں برطانوی استعماری دور حکومت کے دوران خواجہ سراؤں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر بات کی گئی تھی۔
وائرل پوسٹس میں شیئر کی جانے والی یہ بلیک اینڈ وائٹ تصویر اس مضمون میں ایک ایسے کیپشن کے ساتھ شائع ہوئی تھی جس میں خواجہ سرا برادری سے تعلق رکھنے والے فنکاروں اور لوک گلوکاروں کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس مضمون میں شریف خاندان کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں تھا۔
اس مضمون میں تصویر میں موجود خواتین کی شناخت سیاسی رہنما نواز شریف کی رشتہ داروں کے طور پر بھی نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی اس میں ان کی والدہ یا نانی کا کوئی حوالہ دیا گیا تھا۔
یہ اصل تصویر برجمین امیجز (Bridgeman Images) کی جانب سے شائع کی گئی تھی، جس نے اس کی شناخت 1890ء کی دہائی کی ایک رقاصہ اور گلوکارہ کی تصویر کے طور پر کی تھی۔
اس تصویر کو یہاں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
فیصلہ: اس تصویر کا نواز شریف یا ان کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تصویر برطانوی ہند میں خواجہ سرا برادری پر مبنی بی بی سی اردو کے ایک فیچر مضمون سے لی گئی ہے، جسے سوشل میڈیا پر غلط کیپشن اور گمراہ کن انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply