چین کی جانب سے 2021 سے 2025 کے دوران 12 ہزار سے زائد انڈر گریجویشن ڈگری پروگرامز کو ختم کرکے 10 ہزار 200 نئے پروگرامز کو متعارف کرایا گیا۔
یہ چین کی تاریخ میں سب سے بڑا تدریسی اوور ہال ہے جس کے دوران ملک بھر کی 30 فیصد سے زائد یونیورسٹیوں میں پرانے پروگرامز کو ختم اور نئے پروگرامز کو متعارف کرایا گیا۔
چینی خبر رساں ادارے نے وزارت تعلیم کے ڈیٹا کے حوالے سے بتایا کہ 2 وجوہات کے باعث تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔
ایک وجہ چین میں انڈر گریجویٹ نوجوانوں میں بیروزگاری کا بحران ہے اور دوسری وجہ افرادی قوت کی مارکیٹ میں آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹیکنالوجی کا برق رفتاری سے پھیلاؤ ہے۔
اس وقت چینی نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 16 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور حال ہی میں گریجویشن کرنے والے لاکھوں نوجوانوں کو علم ہوا کہ ان کی ڈگریاں کسی کام کی نہیں۔
آرٹس، غیر ملکی زبانوں، منیجمنٹ پروگرامز اور ہیومینٹیز پروگرامز میں سب سے زیادہ کٹوتیاں کی گئی ہیں اور انتظامیہ کی جانب سے ان شعبوں کو چینی معیشت کے لیے بیکار تصور کیا جا رہا ہے۔
ان کی جگہ متعارف کرائے جانے والے نئے پروگرامز میں چین کے صنعتی عزائم کو مدنظر رکھا گیا ہے جبکہ ٹیکنالوجی اور اے آئی پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔
مثال کے طور پر 9 یونیورسٹیوں میں ایڈوانسڈ اے آئی کو اہم پروگرامز میں شامل کیا گیا ہے اور طالبعلموں کو سکھایا جائے گا کہ نئی ٹیکنالوجیز کو کیسے حقیقی دنیا میں استعمال کیا جائے جو کہ چین کی قومی پالیسیوں کے مطابق ہے۔
اس اوور ہال سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ چینی حکومت یونیورسٹی کے نصاب اور اقتصادی مسابقت کے درمیان تعلق کے حوالے سے کس حد تک سنجیدہ ہے۔
حالیہ برسوں میں چین میں گریجویشن کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے مگر زیادہ تر نے ان مضامین میں ڈگری حاصل کی، جن کی مارکیٹ میں طلب نہ ہونے کے برابر ہے۔
اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی نظام میں تبدیلیاں کی ہیں۔


























Leave a Reply