Preloader

واشنگٹن : امریکی انتظامیہ نے جرائم پیشہ افغان تارکین وطن کو پاکستان کے راستے ان کے ملک واپس بھیجنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایسے تارکین وطن کو پاکستان کے راستے واپس بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جنہیں امریکہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام پر انسانی حقوق اور تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں (این جی اوز) نے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ ان میں سے بعض افراد کو طالبان کی جانب سے انتقامی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے افغان تارکین وطن کی ملک بدری کے لیے ابتدائی پروازیں لوزیانا سے پاکستان روانہ کیے جانے کا امکان ہے، جہاں پہنچنے کے بعد انہیں افغانستان منتقل کیا جائے گا، یہ کارروائی آج بروز پیر سے شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی حکام نے افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق معلومات عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں ظاہر کی ہیں۔ ورجینیا کی ایک وفاقی عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز کے مطابق امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی کہ ایک افغان شہری کو لوزیانا کے شہر الیگزینڈریا سے پاکستان جانے والی خصوصی پرواز میں سوار کرنے کا منصوبہ تھا، جہاں سے اسے مزید افغانستان منتقل کیا جانا تھا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ پہلے بھی ہزاروں تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے بجائے تیسرے ممالک منتقل کرچکی ہے۔ افغان شہریوں کے معاملے میں یہ اقدام اس لیے بھی حساس قرار دیا جارہا ہے کہ امریکا اور طالبان حکومت کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔

افغان باشندوں کی کراچی آمد، سندھ حکومت نے سخت فیصلہ کرلیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *